بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

لین دین ٹیکس مالی شمولیت کی حکومتی پالیسی کے خلاف ہے، بینکنگ سیکٹر

datetime 23  اگست‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) بینکاری لین دین پرودہولڈنگ ٹیکس عائد کیے جانے کے بعد تمام تھوک وخوردہ تجارتی مراکز اور مارکیٹوں میں تاجربرادری کی سہولت کے لیے قائم بینکوں کی برانچوں میں ٹرانزیکشنز 30 فیصدکم ہوگئی ہے اورٹرانزیکشنز پر ودہولڈنگ ٹیکس سے بچاو¿ کے لیے تاجربرادری نے مختلف گروپوں کی صورت میں اندرون ملک ہنڈی حوالہ نیٹ ورک قائم کرلیا ہے۔
سینئر بینکاروں نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر ” بتایا کہ بینکاری لین دین پر ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے سے تمام تجارتی بینکوں کے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور یہ بات درست ہے کہ تاجروں نے ستمبر2015 تک ٹرانزیکشنز پر 0.3 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس نافذ ہوتے ہی بینکوں میں رقوم رکھنا کم کردی ہیں، یہی وجہ ہے کہ کراچی کے جوڑیابازار، برتن بازار، میلامائن مارکیٹ، کیمیکل مارکیٹ، صدربوہری بازار، ریگل الیکٹرانکس مارکیٹ، ایم اے جناح روڈ، میڈیسن مارکیٹ اوردیگرمارکیٹوں وتجارتی مراکز سے متصل مختلف بینکوں کی قائم برانچوں میں لین دین بتدریج کم ہوتا جارہا ہے۔ بینکاروں کا کہنا ہے کہ ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کے بعد تجارتی مراکزمیں تمام بینکوں کی برانچوں میں ٹرانزیکشنزاوسطاً 30 فیصد گھٹ چکی ہے اور بینک کسٹمرز کے اس رحجان سے خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ بینک ٹرانزیکشنز کی شرح میں مزید کمی واقع ہوگی۔
بینکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ریونیو کے حجم کو بڑھانے اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے اس سے تجارتی بینکوں کی بیشتربرانچوں کے خسارے میں جانے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ ایک بینک کے صدر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی فنانشل انکلوڑن (مالی شمولیت) پالیسی کے خلاف بینک ٹرانزکشن پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، ٹیکس عائد کیے جانے سے عوام اور کاروباری افراد نے بینکوں میں پیسہ رکھنا چھوڑ دیا ہے اور ملک ایک مرتبہ پھر دستاویزی اور بینکاری کے بجائے نقد معیشت کی طرف گامزن ہوگیا ہے، حکومت نے انکم ٹیکس گوشوارے فائل کرنے والوں کی بینک لین دین پر بھی ٹیکس لاگو کیا ہے، ریٹرن فائلز اپنے ریٹرن فائل کرنے میں یہ رقم واپس کلیم کرسکتے ہیں لیکن پاکستان میں کلیم ملنے کی روایت نہیں ہے۔
بینکاروں کا کہنا ہے کہ کاروباری برادری کا تجربہ ٹیکس کلیمز واپس لینے کے حوالے سے بہت اچھا نہیں رہا ہے اور اب بھی حکومت نے اربوں روپے مالیت کے سیلزٹیکس، ڈیوٹی ڈرابیک اور کسٹم ری بیٹ کی مد میں داخل کردہ کلیمز کی ادائیگی نہیں کی۔ بینکاروں کا کہنا تھا کہ حکومت نے بینکاری لین دین پرودہولڈنگ ٹیکس عائد کرکے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ اس کی مشینری میں ریونیو کے حجم میں اضافے کی صلاحیت نہیں ہے جس کی وجہ سے حکومت کو ریونیو حجم بڑھانے اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے مذکورہ سہل طریقہ اختیار کرنا پڑا ہے، ابتدائی طور پر حکومت نے0.6 فیصد عائد کرکے ملک میں ایک ماحول پیدا کیا بعد ازاں زبردست ردعمل ا?نے کے نتیجے میں اس کی شرح گھٹا کر 0.3 فیصد کردی گئی جو ستمبر2015 تک ہوگی، اس دوران حکومت ملک کے مختلف شعبوں جن میں تجارتی بینک، چیمبرز آف کامرس ودیگر تجارتی شعبے شامل ہیں سے مذکورہ ٹیکس کے حوالے سے رائے حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ شعبہ بینکاری کے نمائندوں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ مذکورہ ٹیکس کی شرح کو0.01 فیصد پر لائے جبکہ دیگر تجارتی تنظیموں اور تاجرنمائندوں کی جانب سے اس ٹیکس کو یکسر واپس لینے کے لیے دباو¿ ڈالا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت بھی اس سلسلے میں جلد اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل اجلاس طلب کرنے والی ہے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…