منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

عالمی بینک کی سکھر بیراج کیلئے قرض دینے کی یقین دہانی

datetime 21  جولائی  2015 |

سکھر(نیوز ڈیسک) وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ عالمی بینک نے سکھر بیراج کی بحالی اور مرمت کے منصوبے کے لیے آسان اقساط پر قرض دینے کی یقین دہانی کرائی ہے بحالی کے منصوبے کے بعد سکھر بیراج میں سے 15 لاکھ کیوسک پانی باآسانی گزر جائے گا
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر بیراج پر محکمہ آبپاشی کی جانب سیلاب کی صورتحال اور پیشگی انتظامات کے حوالے سے دی گئی بریفنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ سندھ زرعی صوبہ ہے اس کی 80 فیصد معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے، پانی ہماری زندگی ہے نہری نظام کو بہتر کرنے کیلئے حکومت سندھ سنجیدگی سے اقدامات کررہی ہے، سکھر بیراج پر پانڈ لیول اور مٹی کے جزیروں کو ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ ورلڈ بینک اور دیگر بین الاقوامی کمپنیوں کے ماہرین نے اپنی فزیبلٹی اور اسٹیڈی روپورٹ میں کہا ہے کہ اس وقت سکھر بیراج میں سے 12 لاکھ کیوسک سے زائد پانی برداشت نہیں کرسکے گا اگر سکھر بیراج کی بحالی کا منصوبہ مکمل ہوگیا تو اس میں سے 15 لاکھ کیوسک پانی بھی گزر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ9 اگست کو عالمی بنک، پانی اور آبپاشی ماہرین کے علاوہ اعلیٰ آفیسرز کا اجلاس سکھر میں ہی طلب کیا گیا ہے جس میں ماہرین سے تجاویز لی جائیں گی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سکھر بیراج کے متبادل نیا بیراج بنانے کیلئے خطیر رقم کی ضرورت ہوگی لیکن اس کے باوجود بیراج کی بحالی والے منصوبے کی تکمیل سے ہمیں 10 سے 15 سال کا وقت مل جائے گا نیا بیراج ضرور بنانا ہوگاجس کیلئے ابھی سے تیاری کرنی ہوگی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ میں دریائے سندھ پر ٹوٹل 46 حساس مقامات ہیں الرا جاگیر بند اور قادر پور بند سمیت انتہائی حساس بندوں پر مرمتی کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ الرا جاگیر پر اس سے قبل عارضی طور پر مرمتی کام کیا جاتا تھا لیکن اب اسپرس تیار کیے جارہے ہیں جس پر تیزی سے کام جاری ہے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ گڈو بیراج سے پانی کا اخراج 3 لاکھ کیوسک سے زائد ہے اور پیشن گوئی کے مطابق رواں ماہ کی 26 تاریخ تک بڑا سیلاب نہیں آئے گااس کے باوجود تمام محکموں اور متعلقہ عملے کو الرٹ رکھا گیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…