بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

مالی سال15-2014‘برآمدات24ارب ڈالر کی سطح تک بھی نہ پہنچ سکیں

datetime 21  جولائی  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) حکومت کے برآمدات کو فروغ دینے کے دعوے دھرے رہ گئے، مالی سال 2014-15 کے دوران ملکی برآمدات 24ارب ڈالر کی سطح تک بھی نہ پہنچ سکیں حالانکہ اس سے پچھلے سال برآمدات نے 25ارب ڈالر کی حد کو عبور کیاتھا، ایک سال کے دوران ایکسپورٹ 4.88 فیصد گر کر 23 ارب 88 کروڑ50 لاکھ ڈالر تک محدود رہی جبکہ درآمدات2فیصدکے اضافے سے 45 ارب 98 کروڑڈالر تک پہنچ گئیں۔جولائی2014 سے جون 2015 کے 12ماہ کے دوارن تجارتی خسارہ 10.68فیصد بڑھ کر 22 ارب 9 کروڑ50لاکھ ڈالر ہوگیا تاہم جون میں برآمدات سال بہ سال جمود کا شکار رہیں مگر امپورٹ 1.76 فیصد بڑھ گئی جس سے جون کے تجارتی خسارے میں بھی سال بہ سال 3.39 فیصد کا اضافہ ہوا۔پاکستان بیوروشماریات (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2014-15 کے دوران برآمدات میں 4.88 فیصد کمی ہوئی، برآمدات مالی سال 2013-14 میں 25 ارب 11کروڑ ڈالر کے مقابلے میں گزشتہ مالی سال 23ارب88کروڑ50لاکھ ڈالر رہی، اس دوران درآمدات 2.01 فیصد کے اضافے سے 45ارب 98 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 10.68 فیصدبڑھ کر 22ارب 9کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، مالی سال 2013-14 میں درآمدات 45ارب 7کروڑ 30 لاکھ ڈالر اور تجارتی خسارہ 19ارب 96کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہاتھا۔ پی بی ایس کے مطابق جون 2015 میں برآمدات سال بہ سال 0.10 فیصد کمی سے 2 ارب 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر، درآمدات 1.76 فیصد بڑھ کر 4 ارب 39 کروڑ 40 لاکھ ڈالر اور تجارتی خسارہ 3.39 فیصد کے اضافے سے 2 ارب 37 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا تھا۔جون 2014 میں برآمدات 2ارب 1کروڑ 80لاکھ ڈالر، درآمدات4ارب 31کروڑ 80 لاکھ ڈالر اور تجارتی خسارہ 2ارب 30کروڑ ڈالر رہاتھا۔ پی بی ایس کے مطابق مئی کے مقابلے میں گزشتہ ماہ برآمدات میں 3.23 فیصد، درآمدات میں 14.22 فیصد اور تجارتی خسارے میں 25.55 فیصد کا اضافہ ہوا، مئی 2015 میں برآمدات1ارب 95کروڑ 30لاکھ ڈالر، درآمدات 3 ارب 84کروڑ 70 لاکھ ڈالر اور تجارتی خسارہ1ارب 89کروڑ 40لاکھ ڈالر رہا تھا۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…