کراچی(نیوز ڈیسک) وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے چیک سمیت ہرقسم کے بینکاری لین دین پر 0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کے بعد تھوک وخوردہ مارکیٹوں میں کاروبار کرنے والے تاجر شدید متاثر ہوئے ہیں۔
بینکوں کے ذریعے لین دین میں کٹوتیوں کے بعد بھاری مالیت کے کئی سودے منسوخ ہوگئے جس کے بعد تاجر بڑی مالیت کے سودوں کے حوالے سے بینکوں کے ذریعے لین دین میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں اور نقد میں خریدوفروخت کا رجحان پھر سے فروغ پانے لگا ہے،بینکوں کے ذریعے لین دین متاثر ہونے سے کاروباری ادائیگیاں اور کاروباری عمل سست روی کا شکار ہو گیا ہے، بیوپاری ایک ماہ میں ادائیگیوں کے وعدے کوآئندہ 6 ماہ میں چھوٹی چھوٹی نقد اقساط میں ادائیگی کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹیکس درحقیقت ایک نہیں بلکہ ٹیکس در ٹیکس ہے جو کسی بھی کراس چیک کے آخری ٹرانزیکشن تک عائد ہوتا رہے گا اور ایک کراس چیک کئی مرتبہ نان فائلرز سے 0.6 فیصد کے تناسب سے ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتیاں کرتا رہے گا۔ حکومت مذکورہ بجٹ اقدام کے ذریعے اگرچہ سہل انداز میں ریونیو کے حجم میں اضافے کی خواہاں ہے لیکن تجارتی منڈیوں میں اس اقدام سے لین دین کا سرکل بری متاثر ہوگیا ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند روز سے بینکنگ ٹرانزیکشنز کم ہوگئی ہیں اور90 فیصد کاروباری لین دین نقد یا چھوٹے مالیت کے چیکوں کے ذریعے ہونے لگا ہے۔
تھوک مارکیٹوں کے بیوپاریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اب تاجربرادری میں مکمل اعتماد رکھنے والے مالی طور پر مستحکم بڑے بیوپاری یا سرمایہ کار متوازی بینکاری نظام انتہائی کامیابی کے ساتھ متعارف کراسکتے ہیں جبکہ ہنڈی کی طرز پرمضبوط وقابل اعتماد پارٹیوں کی جانب سے بڑی رقوم کے ٹوکن بھی متعارف ہونے کا خدشہ ہے۔ اس ضمن میں جوڑیا بازار ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جعفرکوڑیا نے ”ایکسپریس“ کو بتایا کہ حکومت خود اپنے ہاتھوں سے ملک کے بینکاری نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کی کوششیں کررہی ہے اور اب تو پاکستان کے بینکنگ سسٹم میں سیکریسی ایکٹ بھی سال2003 سے ختم کردیا گیا ہے۔
دنیا بھر میں بینکوں کا کام مالیاتی ٹرانزیکشنز کرنا ہے لیکن پاکستان میں اب بینکوں کو بھی ٹیکس کلکٹر بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے نان ٹیکس فائلرز کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر0.6 فیصد ایڈوانس ٹیکس کی کٹوتی پر یہ موقف ظاہر کیاکہ درحقیقت یہ ٹیکس نان فائلرز کے لیے ایمنسٹی اسکیم کے طور پر ابھرکر سامنے آئے گا جس کے تحت نان فائلرز اپنے رقم کو ٹیکس سے چھپانے اور عوام ادائیگی کی نیت سے اپنی بینکنگ ٹرانزیکشن پر معمولی ٹیکس دینا زیادہ پسند کریں گے۔
بینکوں میں صارفین کے ڈپازٹ کے حجم میں کمی کا رحجان غالب ہوجائے گاکیونکہ لوگ اپنی نقد رقوم کے عوض سونا ودیگر جائیدادوں کی خریداری پر زیادہ توجہ مرکوز کریں گے تاکہ وہ ٹیکسوں کی ادائیگیوں سے بچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ریٹرن فائلرزکی حوصلہ شکنی ہوگی جو اصل ٹیکس دہندگان ہیں اور نان فائلرز کی بہ نسبت اپنے ریکارڈ کو ٹیکس کی ادائیگی کے لیے مکمل رکھتے ہیں اور ٹیکس مشیر تنخواہوں پر رکھتے ہیں اور اس کے باوجود وہ ہمیشہ ٹیکس حکام کی ستم ظریفی کا شکار ہوتے ہیں۔
بینکاری لین دین پر ٹیکس سے تجارتی ادائیگیاں متاثر، کاروبار سست روی کا شکار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بارہ منٹ کا کھیل
-
سعودی عرب میں 2 بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے کے معاملے میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے
-
والدہ کا شناختی کارڈ نہ ہونے پر بچے کا ب فارم کیسے بنے گا؟ نادرا کی وضاحت
-
کاروبار کے لیے 10 کروڑ روپے تک بلاسود قرضہ حکومت کا بڑا اعلان
-
اسلام آباد میں 150 غیر قانونی سوسائٹیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان
-
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کردیا
-
پاکستان سے شکست کے بعد ہیری بروک کا بڑا بیان!
-
ملتان، یتیم بچے کو کار سے کچلنے والا ملزم مقابلے میں ہلاک
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں مزید کمی
-
قومی بچت اسکیموں کے شرح منافع میں اضافہ کردیا گیا
-
پاکستان میں کون کون سی گاڑیاں سستی ہونے والی ہیں؟ بڑی خبر آگئی
-
میری بیٹی نے 15 برس کی عمر میں قرآن کی تعلیم حاصل کی تھی: سابق امریکی صدر بل کلنٹن کا انکشاف
-
کسانوں کے لیے بڑی خوشخبری، حکومت نے گندم کی قیمت مقرر کر دی
-
ٹرائی سیریز: سری لنکا نے نئی تاریخ رقم کر دی



















































