بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

حصص مارکیٹ میں کاروباری حجم میں کمی

datetime 20  جون‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) ماہ صیام کے آغاز پر حاضری کم ہونے، محدود تجارتی سرگرمیوں اور منافع کے لیے فروخت پر دبا کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کواتارچڑھا کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے جس سے انڈیکس کی34600 پوائنٹس کی حد دوبارہ گرگئی، مندی کے باعث64.85 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 27 ارب 95 کروڑ75 لاکھ73 ہزار739 روپے ڈوب گئے۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ سابق صدرکے متنازع بیان کے بعد سیاسی افق پرغیریقینی صورتحال اور خام تیل کی عالمی قیمت کم ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری کے بیشترشعبوں نے محتاط طرز عمل اختیار کیا اور حصص کی آف لوڈنگ کی ترجیح دی، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں کی جانب سے25 ہزار866 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے13 لاکھ 39 ہزار152 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے22 ہزار670 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے10 لاکھ53 ہزار278 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے5 لاکھ919 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے2 لاکھ284 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی۔
جس سے ایک موقع پر 36.46 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے21 لاکھ7 ہزار405 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے تیزی کے اثرات کو زائل کرتے ہوئے مارکیٹ کو مندی سے دوچار کر دیا جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 147.91 پوائنٹس کی کمی سے 34526.70 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 71.45 پوائنٹس کی کمی سے21658.40 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 428.40 پوائنٹس کی کمی سے 58116.62 ہوگیا، کاروباری حجم جمعرات کی نسبت54 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر20 کروڑ70 لاکھ8 ہزار 480 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار350 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا ۔
جن میں107 کے بھا میں اضافہ، 227 کے داموں میں کمی اور16 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں سیمنس پاکستان کے بھا 30.02 روپے بڑھ کر1177.25 روپے اور کولگیٹ پامولیو کے بھا25 روپے بڑھ کر1630 روپے ہوگئے جبکہ سینوفی ایونٹیز کے بھا23.93 روپے کم ہوکر625.40 روپے اور پیکیجز لمیٹڈ کے بھا16.24 روپے کم ہوکر610.13 روپے ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…