بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

قابل تقسیم محاصل،صوبوں کے حصے میں کمی پرسندھ کوتحفظات

datetime 13  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سندھ حکومت نے قابل تقسیم محاصل کے پول سے صوبوں کے حصے میں کمی کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وفاق کو خط لکھا ہے جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر ریونیو شارٹ فال کے باعث قابل تقسیم محاصل کے پول سے حصے میں مزید کمی ہوتی ہے تو سندھ حکومت شدید مالی بحران سے دوچار ہوجائے گی کیونکہ اس وقت بھی وفاق کی جانب سے حصہ کم کرنے کے باعث شدید مالی مسائل کا سامنا ہے۔
سندھ کے سینئر وزیربرائے خزانہ، توانائی ، منصوبہ بندی و ترقیات مراد علی شاہ کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو خط لکھا گیا ہے جس میں انھوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ مالی سال2015-16 کے وفاقی بجٹ اور اس کے ساتھ رواں مالی سال 2014-15کے نظر ثانی شدہ تخمینہ جات کے بارے میں شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
لیٹر میں کہا گیاکہ وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے لیے قابل تقسیم محاصل کے پول سے صوبوں کے حصے کے جو تخمینہ جات دیے گئے تھے اس کے مطابق سندھ کو قابل تقسیم محاصل کے پول سے 30 جون 2015 تک مجموعی طور پر 381.383 ارب روپے ملنا تھے لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2015-16کے وفاقی بجٹ میں پیش کیے جانے والے رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینہ جات میں سندھ کا یہ حصہ کم کرکے353.77ارب روپے کردیا ہے۔
لیٹر میں کہا گیاکہ رواں مالی سال کے شیئر میں سے 31مئی 2015تک سندھ حکومت کو 287.958 ارب روپے ملے جبکہ نظر ثانی شدہ حصے و تخمینے کے مطابق 30جون 2015 مزید 65.81 ارب روپے ملنا ہیں۔
تاہم اصل تخمینہ جات کے مطابق سندھ کو30 جون 2015 تک 93.43ارب روپے ملنا ہیں لہذا اگر رواں مالی سال کے لیے مقررہ نظر ثانی شدہ ریونیو ہدف میں بھی شارٹ فال آتا ہے تو اس سے سندھ کا حصہ مزید کم ہوجائے گا جس سے سندھ حکومت شدید مالی بحران کا شکار ہوجائے گی۔ لیٹر میںکہا گیاکہ قابل تقسیم محاصل کے پول کے علاوہ وفاق کی جانب سے صوبوں کو کی جانے والی براہ راست منتقلیوں میں بھی کمی کی گئی ہے اور نظرثانی شدہ تخمینہ جات میں براہ راست منتقلیوں کی مد میں بھی سندھ کے حصے میں کمی کردی گئی ہے لہذا شیئر میں کمی سے سندھ حکومت کے ترقیاتی منصوبے بھی متاثر ہوں گے اور حکومت کو مالی مشکلات درپیش آئیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…