پاک ایران تعلقات میں اہم موڑ،نئے دورکاآج آغاز

  پیر‬‮ 8 جون‬‮ 2015  |  20:13

لاہور(نیوزڈیسک)وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان برسوں کے تعطل کے بعد فریٹ ٹرین آج ( منگل ) سے دوبارہ سفر کا آغاز کرے گی ،ابتدائی طور پر ہر ہفتے ایک ٹرین چلے گی جو پاکستان سے چاول اور دوسری اشیاءاور واپسی پر ایران سے گندھک ،تارکول اور کیمیکل پاکستان لائے گی ،ٹرین کے ذریعے ایران سے 14‘15روپے فی لیٹر کے حساب سے دو ہزار لیٹر تیل بھی خریدیں گے جسے ہم 5ہزار لیٹر پر لانا چاہتے ہیں ،محکمہ ریلوے آئی سی یو سے باہر نکل آیا ہے اور حکومت کی طرف


سے پسنجر او ر فریٹ کے شعبوں میں دئیے گئے آمدنی کے ہدف سے زیادہ کما چکے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ رو ز ریلوے ہیڈ کوارٹر میں محکمے کے اعلیٰ افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جب میں نے بطور وزیر ریلوے چارج سنبھالا تھا تو میڈیا کے سامنے اعلان کیا تھاکہ اگر میں دو سالوں میں ریلوے کی حالت میں خاطر خواہ بہتری نہ لا سکا تو مجھے بطور وزیر ریلوے بلکہ کابینہ میں کام کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ۔ پہلے پہل ہم نے انڈین ماڈل کو سٹڈی کیا تھا اور میرا خیال تھا کہ میں اپنی ٹیم کے ہمراہ نظام کا جائزہ لینے بھارت بھی جاﺅں لیکن پھر میں نے سوچا کہ پاکستان ماڈل کیوں نہیں بن سکتا ۔ ہم عزم او رنیک نیتی کے ساتھ چلے اور آج ریلوے کی ایک پختہ شکل پوری قوم کے سامنے آ چکی ہے ۔ اگر ہم اعتماد کے ساتھ قدم سے قدم او رکاندھے سے کاندھا ملا کرچلیں تو ہم تبدیلی لا سکتے ہیں او رہمارا سفر مثبت سمت جاری ہے اگر بعد میں آنے والے بھی انہی خطوط پر چلتے رہے تو انشا اللہ وہ دن آئے گا جب پاکستان ریلوے خطے کی بہترین ریلوے میں شامل ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریلوے کو ملک گیر لنک کرنا چاہتے ہیں اسکے لئے ایم ایل I‘IIاور IIIکا منصوبہ ہے اسکے بعد ایم ایل IVبنانے کا منصوبہ ہے ۔ پاک چین اکنامک کوریڈور میں ہمارے چائنیز پارٹنر نے   حویلیاں پر ٹرمینل بنا کر ایم ایل Iکو کراچی تک امپرو کرنے کا منصوبہ بنایا لیکن ہم نے اپنے چائینزپارٹنر سے درخواست کی ہے کہ وہ حویلیاں سے پشاور تک آئیں ،ہم پشاور سے طورخم بارڈر تک لیجانا چاہتے ہیں اورپاک چین اکنامک کوریڈ ور میں یہ 60سے 62کلو میٹر اضافی شامل ہے ۔ہم نے اپنے چائنیز پارٹنر سے بات شروع کی ہے جس سے فاٹا کے خاص ایریا ز ہیں پھر جلال آباد ،افغانستان تک بنیاد رکھ دی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی حکومت کے تعاون سے آج ( منگل) سے کوئٹہ ،زاہدان کے درمیان فریٹ ٹرین جو برسوں سے بند تھی اس کا دوبارہ آغاز کیا جارہا ہے ۔ ابتدائی طور پر ہفتے میں ایک ٹرین چلے گی اسکے لئے ٹریک کی مرمت او رمینٹی ننس کا کام جاری ہے او رکام کرنے والے اپنے مزدوروں کو ہارڈ شپ الاﺅنس دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے جانےوالی فریٹ ٹرین سے چاول اور دوسری اشیاءجائیں گی جبکہ ایران سے گندھک ، تارکول ، کیمیکل پاکستان لایا جائے گا ۔ فریٹ ٹرین میں پہلے چوبیس ڈبے ہوں گے جنہیں ہم چالیس پر لیجائیں گے ۔ ایران سے ہمیں دو ہزار لیٹر تیل بھی ملے گا جو 14سے 15روپے لیٹر ہوگا جسے یہی فریٹ ٹرین لائے گی جس سے فیول کے لئے آسانی ہو گی ،ہم اسے پانچ ہزار لیٹر تک لانا چاہتے ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ ہم اسلام آباد ، کوئٹہ ،تفتان ، استنبول ٹرین ( ای سی او ) چلانا چاہتے ہیں اور اسکے لئے بزنس کا بھی بندوبست کیا ہے ۔ ترکی نے چند ماہ تک اسکے اخراجات بھی برداشت کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن ہم نے کہا کہ پاکستان اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کا ملک ہے ہم کیوں کسی پربوجھ بنیں ہم ای سی او ٹرین چلانے کے لئے تیار ہیں لیکن ترکی ابھی اسکے لئے تیار نہیں کیونکہ انقرہ اور استنبول میں ٹریک کی مرمت کی جارہی ہے ۔ وفاقی وزیر ریلو ے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ریلوے آئی سی یو سے باہر نکل آیا ہے، حکومت کی طرف سے ہمیں 28ارب روپے آمدنی کا ہدف دیا گیا تھا لیکن مئی کے آخر تک 28ارب 67کروڑ روپے آمدن حاصل کر لی ہے، ہم نے اپنے لئے 31ارب کا ٹارگٹ رکھا تھا جسے ہم قبول کریں گے بلکہ مقررہ مدت تیس جون تک اس سے اوپر جائیں گے ،فریٹ کے سیکٹر میں ہمیں 6ارب 30کروڑ کا ٹارگٹ ملا تھا جبکہ ہم نے اپنے لئے 8ارب روپے مقرر کیا انشا اللہ 30جون تک اس ہدف سے بھی اوپر جائیں گے ۔برسوں بعد ریلوے کا خسارہ نیچے کی طرف جائے گا اور یہ کروڑوں نہیں بلکہ اس سے زیادہ ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ گرین لائن ٹرین کا تجربہ کامیاب رہا ہے ، ہم نے فیصلہ کیا ہے جو جتنا سفر کر ے گا اس کے لئے اتنا کرایہ ہوگااس کے لئے اس ٹرین کے کرائے میں کمی ہے جس پر 20جون سے عملدرآمد ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ گرین لائن ٹرین سے ہمارے حوصلے بڑھے ہیں اب ہم اپنی ٹرینوں کی ویلیو ایڈیشن کریں گے اسکی بنیاد پراور سہولتوں کی بنیاد پر کرائے طے کئے جائیں گے جس سے جو کرایہ وصول کیا جائے گا اسے ایسی سہولتیں بھی فراہم کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے ابھی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ ہم خسارے کی ٹرینیں چلائیں ۔ خوشحال خان خٹک اور بولان ایکسپریس سالانہ 30سے 40کروڑ روپے خسارے میں جارہی ہیں ۔ جب ہم لینڈ اور فریٹ سے آمدنی حاصل کریں گے تو مسافر ٹرینوں کو دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ریلوے نے صرف پنجاب نہیں بلکہ پورے ملک کو سروس دینی ہے