بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

بھارت بنگلہ دیش میں 22 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

datetime 6  جون‬‮  2015 |

ڈھاکہ(نیوزڈیسک)بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان زمین کے تبادلے سمیت تجارت اور تعاون کے 22معاہدوں پر دستخط ہوگئے ، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں نے کئی عشرے پرانا سرحدی تنازعہ حل کر لیا ہے۔غےر ملکی مےڈےا کے مطابق بنگلہ دیش کے دورے کے دوران دارالحکومت ڈھاکہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ اب جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان متنازعہ سرحدی اراضی کا معاہدہ ہوگیا۔ ان اراضی کے شہری دونوں ملکوں میں سے جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں اور جس ملک کی شہریت چاہیں حاصل کر سکتے ہیں۔مودی نے کہا کہ وہ پڑوسی ملکوں سے قریبی تعلقات چاہتے ہیں اور عوام کو سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ مودی کا کہنا تھا کہ زمین کے تبادلے کے معاہدے کے تحت بھارت ہزاروں ایکڑ سرحدی زمین بنگلہ دیش کو دے گا اور ڈھاکہ اپنی کچھ سرحدی اراضی بھارت کے حوالے کرے گا۔اس سے پہلے دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات ہوئی۔ نریندر مودی اور شیخ حسینہ نے میری ٹائم سیکورٹی سمیت تجارت اور تعاون کے 22 معاہدوں پر دستخط کیے۔ معاہدوں کے تحت بھارت بنگلہ دیش میں 22 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اس سے پہلے بھارتی وزیر اعظم ڈھاکہ ہوائی اڈے پر پہنچے تو بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے ان کا استقبال کیا۔ہزاروں بنگلہ دیشی بھارت کی 50 سے زیادہ بستیوں میں آباد ہیں جبکہ بھارتی باشندے بنگلہ دیش کی تقریبا 100 بستیوں میں آباد ہیں۔خیال رہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تقریبا 4,000 کلومیٹر طویل سرحد پر یہ بستیاں برطانوی نو آبادیات کا ورثہ ہیں اور کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا باعث رہے ہیں۔بھارت بنگلہ دیش کے درمیان تقریبا چار ہزار کلومیٹر طویل سرحد پر تقریبا ڈیڑھ سو بستیاں ایسی ہیں جہاں کے باشندوں کو کسی ملک کی سرکاری سہولتیں حاصل نہیں ہیںان بستیوں میں آباد افراد کا حقیقی معنوں میں کوئی ملک نہیں ہے کیونکہ انھیں کسی ملک کی جانب سے کوئی سرکاری سہولتیں حاصل نہیں ہیں۔اس معاہدے کے بعد وہاں کے لوگ یہ فیصلہ کرنے کے مجاز ہوں گے کہ وہ کہاں رہنا چاہتے ہیں اور کس ملک کی شہریت لینا چاہتے ہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…