جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پابندی کے باوجود استعمال شدہ ٹائرز کی در آمد واسمگلنگ عروج پر پہنچ گئی

datetime 16  مارچ‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) نئے ٹائروں کے بعد اب پاکستان میں پابندی کے باوجود استعمال شدہ ٹائروں کی درآمد اور اسمگلنگ بھی عروج پر پہنچ چکی ہے۔مغربی ممالک سے بڑے پیمانے پر موسم سرما کے استعمال شدہ ٹائرز افغانستان کے ذریعے پاکستانی مارکیٹ میں پھیلائے جارہے ہیں جو ملک کی معیشت کے ساتھ صارفین کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔ ٹائر انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی ا?ڑ میں مغربی ممالک بشمول یورپ اور جاپان سے بڑے پیمانے پر موسم سرما کے استعمال شدہ ٹائر پاکستان لائے جارہے ہیں۔ یورپی ممالک اور جاپان میں چھ ماہ کے موسم سرما میں سرد موسم کے لیے بنائے گئے خصوصی ٹائر استعمال کیے جاتے ہیں جو موسم گرما کی آمد کے بعد اتار کر رکھ دیے جاتے ہیں، ان ملکوں میں موسم بدلنے کے ساتھ ہی دو مرتبہ گاڑیوں کی فٹنس چیک کی جاتی ہے جس میں ٹائروں کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے.موسم سرما میں استعمال کیے گئے ٹائر موسم گرما میں استعمال نہیں ہوسکتے اس لیے زیادہ تر لوگ موسم سرما کے استعمال شدہ ٹائر متروک کرکے کباڑے میں پھینک دیتے ہیں، استعمال شدہ اشیا کی عالمی تجارت کرنے والی کمپنیاں ان ٹائروں کو جمع کرکے تیسری دنیا کے ملکوں کو ایکسپورٹ کردیتی ہیں۔ یورپ کے بہت سے ممالک اپنا کباڑا تیسری دنیا کے ملکوں میں ٹھکانے لگانے والی کمپنیوں کو مالی مراعات بھی فراہم کرتے ہیں۔ موسم سرما کے یہ ٹائرز پاکستان لاکر فروخت کیے جارہے ہیں موسم سرما کے ٹائر پاکستان کی گرمی کا موسم جھیلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور نتیجے میں گاڑیوں کے حادثات اور بریک فیل ہونے سے قیمتی جانی اور املاک کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…