اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

آئی جی اسلام آباد اورآئی جی پنجاب کو عمران خان کیخلاف جھوٹی الزام تراشی پر قانونی کارروائی کرنی چاہیے، مشورہ دیدیا گیا

datetime 23  مارچ‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی)صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر نے کہا ہے کہ عمران خان کے آئی جی پنجاب اور اسلام آباد پر قتل کی سازش کرنے کے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں ان میں کوئی حقیقت نہیں، عمران خان اس قسم کے جھوٹے الزامات لگا کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ

حقیقت یہ ہے کہ وہ ان الزامات کی اوٹ میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں انھوں نے اپنے جھوٹے الزامات کو تقویت دینے کے لیے ایک جھوٹی کہانی بھی سنائی ہے جس کے تحت ایک جعلی پولیس آپریشن میں 5 پولیس اہلکار پارٹی ورکرز کے روپ میں پولیس پر فائرنگ کریں گے جس کے جواب میں پولیس کارکنوں کے خلاف کارروائی کرے گی اور اس دوران انکو مرتضی بھٹو کی طرز پر قتل کر دیا جائے گا اور الزام انکے کارکنوں پر لگایا جائے گا۔ عامر میر نے کہا کہ یہ تو مجھے ایک فلم ڈائریکٹر کی کہانی لگتی ہے خان صاحب ایسی کہانیاں بنانے کے ماہر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح سینئر پولیس آفیسرز پر قتل کی سازش کا الزام لگانا ایک سنگین جرم ہے ہے میری ذاتی رائے میں آئی جی اسلام آباد اور آئی جی پنجاب کو عمران خان کے خلاف جھوٹی الزام تراشی پر قانونی کاروائی کرنی چاہیے۔عامر میر نے مزید کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ خان صاحب مایوسی کا شکار ہیں اس لیے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے روزانہ کسی نہ کسی پر الزام لگا دیتے ہیں وہ پہلے بھی چیف منسٹر پنجاب، آصف علی زرداری، رانا ثناء اللہ اور دیگر کے خلاف ایسے بیہودہ الزامات لگا چکے ہیں- اسی لئے انہیں الزام خان کا خطاب مل چکا ہے۔عامر میر نے کہا کہ ایسے فضول الزامات کوئی عقل و شعور سے عاری شخص ہی لگا سکتا ہے۔عقل اس الزام کو نہیں مانتی کہ آئی جی لیول کے سینئر افسران فوج کی اعلی قیادت

سے ملکر ایک شخص کو مروانے کی سازش کریں یا ڈیتھ اسکواڈ تیار کرے گا۔صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر نے کہا کہ اگر اس قسم کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار دار کون ہوگا یقینا حکومت پر اس کی ذمہ داری آئے گی اور نگران حکومت اپنے خلاف اس قسم کی سازش کیسے کر سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…