جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے سمندر کی تہہ میں رہنے والی انتہائی عجیب الخلقت مچھلی کا سراغ لگا لیا

datetime 21  دسمبر‬‮  2014 |

ہوائی۔۔۔۔۔۔سب سے زیادہ گہرائی میں رہنے والی مچھلی کا نیا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔سائنسدانوں نے ایک عجیب الخلقت مخلوق کی تصویر سمندری لہروں کے 8145 میٹر نیچے لی ہے جو کہ سابقہ ریکارڈ سے تقریبا نصف کلو میٹر نیچے ہے۔اطلاعات کے مطابق کیمرے میں دوسری قسم کی متعدد مچھلیوں کی بھی تصویریں آئی ہیں جن میں بڑی کرسٹیشین مچھلیاں بھی شامل ہیں جنھیں سپردویوقامت کہا جاتا ہے۔ان جانداروں کی تصاویر میریانا ٹرینچ کی گہرائیوں میں بین الاقوامی مہم کے درمیان لی گئی ہے۔واضح رہے کہ میریانا ٹرینچ بحرالکاہل میں سب سے گہری جگہ ہے اور یہ سطح سمندر سے 11 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع ہے۔شمت اوشین ریسرچ کے جہاز فالکور سے اس مہم کے لیے 30 دنوں کا سفر کیا گیا جسے دنیا کی سب سے گہری جگہ میریانا ٹرینچ کا اب تک کا سب سے جامع سروے کہا جا رہا ہے۔اس مچھلی کی دریافت سے ٹیم کو یہ لگا کہ انھوں نیا ریکارڈ حاصل کر لیا ہیہیڈل ایکوسسٹم سٹڈیز (ہیڈز) کی ٹیم نے پانچ ہزار سے 10600 میٹر کی گہرائی میں بغیر انسان والی سیڑھیاں 90 مرتبہ ڈالیں۔انھوں نے سمندر کے نیچے کی تہوں اور دیواروں کا بھی مطالعہ کیا ہے۔امریکہ کی ہوائی یونیورسٹی کے سائنداں ڈاکٹر جیف ڈریزن نے کہا: ’ٹرینچ پر مبنی بہت سے مطالعے کیے گئے ہیں لیکن ایکولوجی کے نقطہنظر سے یہ تمام مطالعے بڑے محدود تھے۔ یہ ایسے ہی تھے جیسے کسی پہاڑ کے ایکو سسٹم کو جاننے کے لیے صرف اس کی چوٹی کو ہی دیکھا جائے۔‘ابرڈین یونیورسٹی کے ہیڈل لینڈر جو کہ برطانیہ کا سب سے زیادہ گہرائی میں جانے وال جہاز ہے اس نے تقریبا 100 گھنٹے کی فلم ریکارڈ کی ہے۔اس سے قبل سب سے زیادہ گہرائی پائی جانے والی مچھلی جاپان کے ٹرینچ میں پائی گئی تھی۔ یہ ٹرینچ بھی بحرالکاہل میں ہی ہے۔ یہاں گلابی شول پائی گئی تھی جو کہ 7700 میٹر گہرائی میں تھی۔میریانا ٹرینچ کی گہرائیوں میں گلابی اور لال رنگ کے جھینگے کی قسم کی مچھلیاں بھی ہیں
ایبرڈین یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایلن جیمیسن نے کہا: ’اس مچھلی کی دریافت کے بعد ہم نے ہر ٹرینچ میں مچھلی تلاش کرنے کی کوشش کی اور تمام ٹرینچ میں اپنی قسم کی گھونگھے جیسی مچھلیاں تھیں۔‘انھوں نے مزید کہا: ’اور ہمیں ایک مچھلی میریانا ٹرینچ میں آٹھ ہزار میٹر کی گہرائی میں ملی اور ہمارے خیال سے یہ مچھلیوں کی ایک نئی قسم ہے۔‘اس مچھلی کی دریافت سے ٹیم کو یہ لگا کہ انھوں نیا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے لیکن پھر انھوں ہلکے گلابی رنگ کی ایک قسم نظر آئی جو 8145 میٹر کی گہرائی میں تھی۔ڈاکٹر جیمیسن نے کہا: ’ہمارے خیال میں یہ ایک سنیل فش ہے لیکن یہ انتہائی عجیب الخلقت ہے۔۔۔ یہ ناقابل یقین طور پر کمزور ہے اور جب یہ پیرتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ بھیگا ہوا ٹیشو پیپر تیر رہا ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…