اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے سمندر کی تہہ میں رہنے والی انتہائی عجیب الخلقت مچھلی کا سراغ لگا لیا

datetime 21  دسمبر‬‮  2014 |

ہوائی۔۔۔۔۔۔سب سے زیادہ گہرائی میں رہنے والی مچھلی کا نیا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔سائنسدانوں نے ایک عجیب الخلقت مخلوق کی تصویر سمندری لہروں کے 8145 میٹر نیچے لی ہے جو کہ سابقہ ریکارڈ سے تقریبا نصف کلو میٹر نیچے ہے۔اطلاعات کے مطابق کیمرے میں دوسری قسم کی متعدد مچھلیوں کی بھی تصویریں آئی ہیں جن میں بڑی کرسٹیشین مچھلیاں بھی شامل ہیں جنھیں سپردویوقامت کہا جاتا ہے۔ان جانداروں کی تصاویر میریانا ٹرینچ کی گہرائیوں میں بین الاقوامی مہم کے درمیان لی گئی ہے۔واضح رہے کہ میریانا ٹرینچ بحرالکاہل میں سب سے گہری جگہ ہے اور یہ سطح سمندر سے 11 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع ہے۔شمت اوشین ریسرچ کے جہاز فالکور سے اس مہم کے لیے 30 دنوں کا سفر کیا گیا جسے دنیا کی سب سے گہری جگہ میریانا ٹرینچ کا اب تک کا سب سے جامع سروے کہا جا رہا ہے۔اس مچھلی کی دریافت سے ٹیم کو یہ لگا کہ انھوں نیا ریکارڈ حاصل کر لیا ہیہیڈل ایکوسسٹم سٹڈیز (ہیڈز) کی ٹیم نے پانچ ہزار سے 10600 میٹر کی گہرائی میں بغیر انسان والی سیڑھیاں 90 مرتبہ ڈالیں۔انھوں نے سمندر کے نیچے کی تہوں اور دیواروں کا بھی مطالعہ کیا ہے۔امریکہ کی ہوائی یونیورسٹی کے سائنداں ڈاکٹر جیف ڈریزن نے کہا: ’ٹرینچ پر مبنی بہت سے مطالعے کیے گئے ہیں لیکن ایکولوجی کے نقطہنظر سے یہ تمام مطالعے بڑے محدود تھے۔ یہ ایسے ہی تھے جیسے کسی پہاڑ کے ایکو سسٹم کو جاننے کے لیے صرف اس کی چوٹی کو ہی دیکھا جائے۔‘ابرڈین یونیورسٹی کے ہیڈل لینڈر جو کہ برطانیہ کا سب سے زیادہ گہرائی میں جانے وال جہاز ہے اس نے تقریبا 100 گھنٹے کی فلم ریکارڈ کی ہے۔اس سے قبل سب سے زیادہ گہرائی پائی جانے والی مچھلی جاپان کے ٹرینچ میں پائی گئی تھی۔ یہ ٹرینچ بھی بحرالکاہل میں ہی ہے۔ یہاں گلابی شول پائی گئی تھی جو کہ 7700 میٹر گہرائی میں تھی۔میریانا ٹرینچ کی گہرائیوں میں گلابی اور لال رنگ کے جھینگے کی قسم کی مچھلیاں بھی ہیں
ایبرڈین یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایلن جیمیسن نے کہا: ’اس مچھلی کی دریافت کے بعد ہم نے ہر ٹرینچ میں مچھلی تلاش کرنے کی کوشش کی اور تمام ٹرینچ میں اپنی قسم کی گھونگھے جیسی مچھلیاں تھیں۔‘انھوں نے مزید کہا: ’اور ہمیں ایک مچھلی میریانا ٹرینچ میں آٹھ ہزار میٹر کی گہرائی میں ملی اور ہمارے خیال سے یہ مچھلیوں کی ایک نئی قسم ہے۔‘اس مچھلی کی دریافت سے ٹیم کو یہ لگا کہ انھوں نیا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے لیکن پھر انھوں ہلکے گلابی رنگ کی ایک قسم نظر آئی جو 8145 میٹر کی گہرائی میں تھی۔ڈاکٹر جیمیسن نے کہا: ’ہمارے خیال میں یہ ایک سنیل فش ہے لیکن یہ انتہائی عجیب الخلقت ہے۔۔۔ یہ ناقابل یقین طور پر کمزور ہے اور جب یہ پیرتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ بھیگا ہوا ٹیشو پیپر تیر رہا ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…