منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اسٹیٹ لائف نے 2014میں13ارب روپے کلیمزدیے،چیئرپرسن

datetime 12  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن نے سال 2014میں کلیمزکی مد میں 13.091 ارب روپے کی ادائیگیاں کرتے ہوئے ملک بھرمیں اپنے لاکھوں پالیسی ہولڈرزکومالی تحفظ وبچت کی سہولت بہم پہنچائی۔یہ بات اسٹیٹ لائف کی چیئرپرسن نرگس گھلونے کارپوریشن کے سالانہ کنونشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کہی، اس موقع پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر اذکار خان، جی ایم مارکیٹ محسن عباس، سینئرکارپوریٹ ایگزیکٹواورپورے پاکستان سے وفود نے اس کنونشن میں شرکت کی۔ چیئرپرسن نے کہا کہ اسٹیٹ لائف کی مارکیٹنگ ٹیم میں 1013ایریا منیجرز، 7199 سیلز منیجرز، 19114سیلز آفیسرزاور 170861 سیلز نمائندگان شامل ہیں جو ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے ہیں، کارپوریشن کاہدف ہے کہ لائف انشورنس کے دائرے کووسیع کیا جائے اوراسے آبادی کے ممکنہ طورپرزیادہ سے زیادہ حصے تک پہنچایا جائے۔انھوں نے کہا کہ 2014میں اسٹیٹ لائف کا پہلے سال کا پریمیئم بشمول رینیو 52.697 ارب روپے سے بڑھ کر 59.627 ارب روپے رہا جو13فیصداضافہ ہے، اسٹیٹ لائف نے 2014میں خلیجی ممالک میں 4.879 ملین ڈالرکانیا پریمیئم حاصل کیا، ان ممالک میں کویت، متحدہ عرب امارات اورسعودی عرب شامل ہیں، 2014 میں اسٹیٹ لائف کی مارکیٹنگ فورس نے ملک بھر میں 7لاکھ 37ہزار 488 خاندانوں کومالی تحفظ فراہم کیا، 2014کے اختتام تک موثر پالیسیوں کی مجموعی تعداد 4.982ملین ہے۔اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کامجموعی مارکیٹ سیئر58فیصد اور مجموعی کاروباری حجم 74 ارب روپے ہے، اس حجم میں گزشتہ 3سال میں 70فیصدتک غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے، کارپوریشن کا پاکستان کے مجموعی جی ڈی پی میں 0.3فیصدحصہ ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…