پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان کے نائن الیون کو 3 برس بیت گئے ، انصاف نہ ملا

datetime 11  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) سانحہ بلدیہ فیکٹری کو 3برس بیت گئے، دہشتگردی میں زندہ جل جانے والے 260افراد کے ورثاءکو انصاف ابھی تک نہ مل سکا، حکام کی عدم دلچسپی کے باعث کیس سرد خانے کی نذر ہوا،ملزمان کو ضمانت مل گئی اور سرکاری وکیل نے استفعیٰ دے دیا۔گیارہ ستمبر 2012 کو پاکستان کی تاریخ کا المناک ترین سانحہ ہوا۔ بھتہ نہ ملنے پر بلدیہ ٹاو¿ن میں واقع گارمنٹس فیکٹری کو آگ لگا دی گئی تھی جس کے باعث 260 فیکٹری مزدور زندہ جل گئے عوامی دباو¿ پرمقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 شامل کی گئی لیکن فیکٹری مالکان نے ضمانت حاصل کرلی۔جسٹس ریٹائرڈزاہد قربان علوی پر مشتمل عدالتی ٹریبونل نے واقعہ کو حادثہ قراردے دیاتھا لیکن بعد میں سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ملزم رضوان قریشی کے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو ریکارڈ کرائے گئے بیان نے ہلچل مچا دی۔ملزم نے انکشاف کیا کہ بلدیہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں بلکہ لگوائی گئی تھی۔ ملزم کے بیان پر ایک اور جے آئی ٹی تشکیل پائی۔ فروری 2015 میں سندھ ہائیکورٹ نے ماتحت عدالت کو ایک سال میں مقدمہ نمٹانے کا حکم دیا لیکن مقدمے کی کارروائی آگے کیسے بڑھتی، دباو¿ کے زیر اثر آ کر پبلک پراسیکیوٹر شازیہ ہنجرہ نے 7 ماہ قبل استعفیٰ دے دیا۔اب صورتحال یہ ہے کہ متعدد نوٹسز کے باوجود حکومت نیا پراسیکیوٹرتعینات کرنے کو تیارنہیں جبکہ پہلے حکومتی اداروں کی جانب سے ہی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ حادثہ نہیں دہشتگردی ہے۔ 3 سال گزر گئے مگر بیگناہ فیکٹری مزدوروں کے لواحقین آج بھی انصاف کے متلاشی ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…