پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

لاہور ہائیکورٹ کا جیل بھرو تحریک میں گرفتار پی ٹی آئی رہنماؤں وکارکنوں کی رہائی کا حکم

datetime 3  مارچ‬‮  2023 |

لاہور(این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں جیل بھرو تحریک میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے تمام رہنماؤں اور کارکنوں کی نظر بندی کے احکامات معطل کر تے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا، عدالت نے پنجاب حکومت سمیت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 7مارچ کو جواب طلب کرلیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ

نے فواد چوہدری کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار میں موقف اختیار کیا گیا کہ جیل بھرو تحریک میں گرفتاری دینے والے رہنماؤں کو نظربند کر دیا گیا، نظربندیوں کے احکامات غیر قانونی طور پر جاری کئے گئے ہیں۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ لاہور ہائیکورٹ تحریک انصاف کے نظر بند ہونے والے رہنماں اور کارکنوں کو رہا کرنے کا حکم دے۔دوران سماعت جسٹس طارق سلیم شیخ نے استفسار کیا آپ بتائیں حراست میں غیر قانونی کیا ہے،آپ نے خود جیل بھرو تحریک شروع کی۔ فاضل عدالت نے فواد چوہدری کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کی درخواست قابل سماعت کیسے ہے۔ وکیل نے کہا کہ احتجاج کے طور پر جیل بھرو تحریک شروع کی گئی،رہنماؤں نے خود گرفتاری کے لیے پیش کیا،یہ سب سیاسی قیدی ہیں،رولز میں سیاسی قیدیوں کے بارے میں واضح بتایا گیا ہے۔سرکاری وکیل نے کہا کہ پٹیشن کے ساتھ کوئی ایسا ثبوت نہیں کہ تحریک انصاف کے لوگ حراست میں ہیں۔میں متعلقہ اتھارٹیز سے ہدایات لے لیتا ہوں۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ یہ لوگ اپنی مرضی سے حراست میں گئے تھے۔فاضل جج نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں نے خود گرفتاری دی آپ نے گرفتار کرلیا۔اب وہ رہنما کہہ رہے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیا جائے تو آپ کو کیا مسئلہ ہے؟۔ عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت لے کر 15منٹ تک رپورٹ جمع کروانے کا حکم دے دیا۔جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ لاء آفیسر صاحب ہم شام تک انتظار نہیں کریں گے۔

فاضل جج نے استفسار کیا اگر ایک آدمی یہ کہتا ہے کہ میں رضاکارانہ طور پرگرفتاری دیتا ہوں، جب وہ اپنی مرضی سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی رضاکارانہ طور ہر گرفتاری واپس لیتے ہیں تو اس صورتحال میں کیا ہوگا۔سرکاری وکیل نے عدالت نے 15منٹ کا وقت مانگتے ہوئے کہا کہ کون ایم پی او کے تحت اور کس کے خلاف مقدمات درج ہیں ان کی آگاہی لے لیتا ہوں۔ بعد ازاں سرکاری وکیل نے عدالت میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں 320افراد زیر حراست ہیں جنہیں 3ایم پی او کے تحت نظر بند کیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں کہ صرف صوبائی کابینہ ہی کسی شخص کے نظر بندی کا حکم دے سکتا ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر صوبائی حکومت یا کابینہ نہیں ہے لہٰذا یہ احکامات غیر قانونی ہیں۔ عدالت نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، سیکرٹری جنرل اسد عمر سمیت دیگر کی نظر بندی کے احکامات معطل کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ معاملہ انتہائی غور اور وضاحت طلب ہے۔ پنجاب حکومت سمیت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 7مارچ کو جواب طلب کرلیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…