منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

اب عوام باشعور ہوچکے جس کے باعث عمران خان کے تمام ہتھکنڈے ناکام ہوچکے ہیں، رانا ثنااللہ خان

datetime 27  فروری‬‮  2023 |

مکوآنہ ( این این آئی )وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ عمران خان کی جیل بھرو تحریک کوعوام کی جانب سے بری طرح مسترد کردیا گیا اورپنجاب سمیت ملک بھر میں جن سو سواسو لوگوں کو گرفتار کیاگیا ، اب وہ بھی رہائی کیلئے منتیں کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انہیں ورغلا کر ان کی گرفتاریاں دلوائی گئی ہیں لہٰذا ان کی غلطی معاف کرکے انہیں رہا کردیا جائے ،

عمران خان کی جانب سے واوایلا کیا جارہا ہے کہ ان کے کارکنوں کو دور دراز کی جیلوں میں منتقل کیا جارہا ہے ۔وہ مسلم لیگ ن فیصل آباد کے رہنما کاشف نواز رندھاوا کی والدہ محترمہ کی وفات پر ان کی رہائش واپڈا ٹاؤن فیصل آباد میں اظہار تعزیت کے بعد این این آئی سے گفتگو کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ بدبخت عمرانی ٹولہ 2014 سے با لعموم جبکہ گزشتہ سات آٹھ ماہ سے بالخصوص ملک کیلئے مسائل پیدا کرنے اور اسے عدم استحکام کا شکار بنانے میں مصروف ہے اور کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب اس نے ملک کی بہتری، معاشی استحکام، قوم اور وطن عزیز کو درپیش مسائل کے حل اور آپس کی گفت و شنید کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کی جانب ایک لمحے کیلئے بھی توجہ دی ہو بلکہ ان کی توجہ مسلسل فتنہ گری، فساد برپا کرنے اور ملک کو غیر مستحکم کرنے پر مرکوز ہے جس کیلئے وہ کبھی اسلام آباد پر چڑھائی، کبھی جیلیں بھرنے، کبھی انسانوں کا سمندر لانے، کبھی شہروں کو سیل کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے لیکن اب عوام باشعور ہوچکے جس کے باعث عمران خان کے تمام ہتھکنڈے ناکام ہوچکے ہیں۔رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ فتنہ خان جب اپنی ایک سازش میں ناکام ہوجاتا ہے تو پھر یہ کوئی نیا فارمولا لیکر آجاتا ہے حالانکہ اسے عوام کا پیغام اور اس کی رائے کو سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اسلام آباد کا 25 مئی کا فارمولا فیل ہوا اور کسی جگہ پر 60 یا 70 سے زائد لوگ باہر نہیں نکلے پھر 26 نومبر کو انسانوں کا سمندر لانے کا اعلان ناکام ہوا پھر اس کے جلسے ناکام ہوئے لیکن اب بھی وہ ملک کو عدم استحکام کا شکار بنانے سے باز نہیں آرہا۔۔

انہوں نے کہا کہ عمران کی ہٹ دھرمی جاری رہی تو ملک کے مسائل کم نہیں ہوسکیں گے لیکن اب عوام اس سے متنفر ہوتے جارہے ہیں اسلئے جب بھی آئندہ انتخابات ہوئے ان میں عوام فتنہ خان کو بری طرح مسترد کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے دن رات سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں تاہم عوام کو بھی ان کوششوں کا ساتھ دیتے ہوئے حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ عدلیہ کا بیحد احترام کرتے ہیں ، عمرانی فتنہ کے پروردہ پرویز الٰہی اپنی آڈیو میں اپنے وکیل زبیری صاحب کو ہدایت دے رہے ہیں کہ فلاں بینچ اور فلاں جج کے پاس کیس لگواؤ تاکہ اپنی پسند کا فیصلہ لیا جا ئے ،اسلئے وہ کسی پر الزام نہیں لگارہے بلکہ اپیل کرتے ہیں کہ اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ حقائق قوم کے سامنے آسکیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کی انکوائری اور اس کا فرانزک بھی ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے اوپر وزیر آباد حملے کے بارے میں مسلسل جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں اور وہ اتنے عرصہ میں ایک بھی ایسا ثبوت سامنے نہیں لاسکے جس میں وہ یہ ثابت کرسکیں کہ انہوں نے ان سمیت جن دو دیگر اہم شخصیات پر اس کی ذمہ داری عائد کی تھی ان کا اس میں کیا عمل دخل ہے

بلکہ انہوں نے تو نہ کبھی اس ملزم نوید بشیر کو دیکھا، نہ ہی اسے جانتے ہیں نہ ہی کبھی اس سے ملاقات کی اور نہ ہی کسی بھی تفتیش میں یہ ثابت ہوسکا کہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا شخص بھی ملوث ہے بلکہ وہ موقع سے گرفتار ہوا اور اب بھی موجود ہے لہٰذا اس سے جو چاہے تسلی اور تفتیش کرسکتا ہے کیونکہ وہ بار بار اعتراف کرچکا ہے کہ اس نے یہ اقدام خود طیش میں آکر صرف اور صرف ذاتی حیثیت میں کیا جس کیلئے اس نے20 ہزار میں پستول خریدا اور جس سے خریدا وہ بھی سامنے آگیالیکن عمران میں نہ مانوں کی رٹ پر قائم ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…