منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

آڈیو لیکس، سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

datetime 19  فروری‬‮  2023 |

اسلام آباد(آئی این پی)آڈیو لیکس کے معاملہ پر پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔ایک نجی ٹی وی کے مطابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ہارون الرشید ایڈووکیٹ نے کہا کہ جج کی سیاست دان کے ساتھ ٹیلی فون

کال سامنے آنے پر انہیں فوری مستعفی ہوجانا چاہئے، جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس بھی دائر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے لیے پاکستان بار کونسل کا اجلاس 21 فروری کو طلب کر لیا، پاکستان بار کونسل 23 فروری کو باقاعدہ پریس کانفرنس میں اہم اعلان کرے گی، پاکستان بار کونسل نے آڈیو لیکس پر چیف جسٹس آف پاکستان سے تحقیقات کا بھی مطالبہ کر دیا۔پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس مخصوص جج کے سامنے مقدمہ مقرر کے معاملے کی چھان بین کرائیں، مبینہ آڈیو درست ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ جج کیخلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے۔پاکستان بار کونسل کے مطابق آڈیو جعلی ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے، ججز کا امیج ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کسی سیاسی جماعت کے ترجمان لگیں، ججز کا امیج غیرجانبدار ہونا چاہیے نہ کہ پراسیکیوٹرز، یا درخواست گزاروں جیسا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…