بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

ایجنسی سے امن لشکر کے مزید چھ رضاکاروں کی لاشیں برآمد،سرکاری ٹی وی کا نمائندہ بھی فائرنگ سے زخمی

datetime 9  ستمبر‬‮  2015 |

باڑہ(نیوز ڈیسک) قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں منگل کو دوسرے روز بھی امن لشکر کے چھ رضا کاروں کی لاشیں ملی ہیں۔دو روز میں خیبر ایجنسی سے ملنے والی لاشوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ لاشوں کے ملنے کے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق یہ چھ افراد کی لاشیں تحصیل باڑہ کے علاقے قبر خیل سے ملی ہیں جنھیں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے۔بی بی سی کے مطابق ان افراد کو تعلق تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے بازار زخہ خیل سے بتایا گیا ہے۔ایسی اطلاعات ہیں کہ امن لشکر کے 11 رضا کاروں کو چار روز پہلے خیبر ایجنسی کے دور افتادہ علاقے تیراہ سے اغوا کیا گیا تھا۔مقامی لوگوں کے مطابق ان میں سے پانچ افراد کی لاشیں گذشتہ روز پیر کو ملی تھیں جبکہ چھ افراد کی لاشیں قمبر خیل کے علاقے سے منگل کو ملی ہیں۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام 11 افراد کو گذشتہ روز ہی قتل کر کے لاشیں مختلف علاقوں میں پھینک دی گئی تھیں۔اطلاعات کے مطابق ان افراد کو کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔ گذشتہ روز پیر کو جب پانچ افراد کی لاشیں ملنے کی خبر سامنے آئی تھی تو اس وقت تنظیم کے ترجمان نے نے خیر ایجنسی میں صحافیوں کو فون کرکے اس واقعے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی تھی۔خیبر ایجنسی میں مختلف تنظیمیں متحرک ہیں۔ امن لشکر کے ان افراد کا تعق توحید الاسلام سے بتایا گیا ہے اور یہ تنظیم حکومت کی حمایتی ہے۔پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا تھا کہ لاشیں ملنے کے بارے میں متعلقہ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ اس بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں لیکن جس علاقے کا ذکر کیا گیا ہے وہ انتہائی دور ہے اور وہاں سرکاری اہلکاروں سے رابطہ نہیں ہو رہا۔یاد رہے گذشتہ ماہ صدر ممنون حسین نے خیبر ایجنسی کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے قبائلی رہنماؤں سے خطاب میں کہا تھا کہ فوجی آپریشن ضرب عضب اپنی آخری مراحل میں ہے۔مقامی صحافیوں کا کہنا تھا کہ پشاور کو طور خم سے ملانے والے اہم شاہراہ پر تو حالات پہلے سے قدرے بہتر ہیں لیکن شاہراہ سے ہٹ کے دور دراز کے علاقوں میں حالات اس طرح بہتر نہیں ہیں،دریں اثنا نجی ٹی وی کے مطابق سرکاری ٹی وی کے نمائندے عبد العظم کو بھی فائرنگ کر کے زخمی کرنے کی اطلاعات ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…