جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

سائنس دانوں نے گیس کے چولھے پر کھانا پکانا نقصان دہ قراردیدیا

datetime 29  جنوری‬‮  2023 |

لندن(این این آئی)پوری دنیا میں کھانا پکانے کے لیے گیس چولھوں کا استعمال ہو رہا ہے، تاہم اب سائنس دانوں نے ایک تحقیق کے نتائج میں انکشاف کیا ہے کہ گیس کے چولھے پر کھانا پکانا صحت کے لیے آلودہ شہر میں رہنے سے زیادہ نقصان دہ ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گیس چولھوں سے نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور نہایت نقصان دہ مائیکرو ذرات (پارٹیکیولیٹ میٹر)بنتے ہیں، یہ زہریلے مادے بالخصوص پھیپھڑوں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خطرناک زہریلے مادے ان گیسوں کا حصہ ہوتے ہیں جو گاڑیوں سے خارج ہوتی ہیں، یہ مادے پھیپھڑوں میں جا کر جلن پیدا کرتے ہیں اور یہاں تک کہ خون میں بھی داخل ہو جاتے ہیں، جس سے دل کی بیماری، کینسر اور حتی کہ الزائمر کی بیماری ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان زہریلے مادوں سے بچوں میں دمہ کی بیماری مزید بگاڑ پیدا کر دیتے ہیں، امریکا میں بچوں میں دمہ کے 8 میں سے ایک کیس کھانا پکانے سے خارج ہونے والی آلودگی کا نتیجہ ہے۔رپورٹ کے مطابق بچوں اور بوڑھوں کو ان چولھوں سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے، گیس کے چولھے گھر کی فضاء مصروف شاہرائوں سے زیادہ آلودہ کر دیتے ہیں۔جب ریسرچ میں شامل بچوں کو بیگ میں لگے آلودگی کے مانیٹر کے ساتھ سکول بھیجا گیا تو یہ انکشاف ہوا کہ باہر سے زیادہ گھر میں شام کے وقت بچوں کو آلودگی کا سامنا تھا جس وقت ان کے والدین کھانا پکا رہے تھے۔امپیرئل کالج لندن کی پروفیسر فرینک کیلی کے مطابق گیس چولھے گھر کی فضا آلودہ کرنے کا بڑا سبب ہیں، یہ دمے اور صحت کے دیگر مسائل کا سبب ہو سکتے ہیں اور ان کو بد تر کر سکتے ہیں۔محققین نے کہا کہ اگر ہم نے چولھے سے چھٹکارا حاصل کر لیا تو ہم بچوں میں دمہ کے 12.7 فی صد کیسز کو روک سکیں گے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ گیس کے چولھے کے خطرات کے پیش نظر اگر ممکن ہو تو الیکٹرک ککر پر کھانا پکانا شروع کرنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…