جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ پشاور کی ایک گمنام ہیرو، یہ کون ہے؟ جاننے کیلئے کلک کریں

datetime 19  دسمبر‬‮  2014 |

پشاور : سانحہ پشاور میں دہشت گرد اپنی بربریت دکھانے میں حد سے گزر گئے مگر ان کے مقابلے میں ایک ٹیچر نے دلیری اور قربانی کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر ملنا بہت مشکل ہے۔

آرمی پبلک اسکول پر طالبان دہشت گردوں کے حملے میں بچ جانے والے 15 سالہ ایک طالبعلم عرفان اللہ بتاتا ہے کس طرح ایک خاتون ٹیچر دہشت گردوں کے راستے میں پہاڑ کی طرح کھڑی ہوگئی اور بچوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ جانے کے لیے کہا جس پر اسے زندہ جلا دیا گیا۔

افشاں احمد نامی 24 سالہ یہ ٹیچر اس وقت مسلح افراد کی راہ میں پہاڑ بن کر کھڑی ہوگئی جب وہ اس کی کلاس روم میں داخل ہوئے اور کہا ” تم لوگ میرے طالبعلموں کو میری لاش سے گزر کر ہی مار سکتے ہو”۔

اس بات پر مشتعل ہوکر عسکریت پسندوں نے اس خاتون پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی مگر پھر بھی وہ باہمت ٹیچر اپنے حواس کو بحال رکھتے ہوئے اپنے شاگردوں کو کلاس سے بھگاتی رہی۔

عرفان اللہ افشاں کی اس بے مثال دلیری کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا” وہ ایک ہیرو ہیں جو بہت دلیر تھیں، وہ اس وقت دہشت گردوں کی راہ میں کھڑی ہوگئیں جب وہ ہمیں ہدف بنانے جارہے تھے، ہماری ٹیچر نے انہیں انتباہ کیا کہ تم لوگ انہیں میری لاش سے گزر کر ہی مارسکتے ہو کیونکہ میں اپنے شاگردوں کو خون میں لت پت فرش میں گرا ہوا نہیں دیکھ سکتی”۔

عرفان اللہ کو اس بھگدڑ کے دوران سینے اور پیٹ پر شدید زخم آئے تھے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتا ہے کہ ہماری ٹیچر اسے معاف کردیں گی کیونکہ وہ انہیں تحفظ دینے کے لیے آگے نہیں آیا۔

اس نے مزید کہا کہ میں خود کو خودغرض سمجھ رہا ہوں کیونکہ ہم ہمارے اچھے مستقبل کے لیے اپنی جان قربان کردینے والی ٹیچر کو بچانے کی بجائے اپنی زندگیوں کو ترجیح دیتے ہوئے وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…