منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

اگر ڈھاکا کی شکست سیاسی ناکامی تھی تو پھر ہتھیار ڈالنے والوں کا سربراہ جنرل نیازی کیوں تھا کوئی سیاسی لیڈر کیوں نہیں تھا،حامد میر

datetime 4  دسمبر‬‮  2022 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی و سینئراینکر حامد میر نے پندرہویں عالمی اردو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ اگر ڈھاکا کی شکست سیاسی ناکامی تھی تو پھر ہتھیار ڈالنے والوں کا سربراہ جنرل نیازی کیوں تھا کوئی سیاسی لیڈر کیوں نہیں تھا، پاکستان میں میڈیا الیکٹرونک ہو یا پرنٹ سچ نہیں بول سکتا، اگر سچ بولیں تو غدار کہا جاتا ہے۔

اس لئے سوچا غداروں کی فہرست میں شامل ہوجائوں ۔آئین میں لکھا ہوا ہے کہ اس ملک میں اردو دفتری زبان ہو گی لیکن سپریم کورٹ میں آج بھی فیصلہ انگریزی میں لکھے جاتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہر دور میں تاریکی رہی ہے چاہئے وہ جمہوری ہو یا آمریت، یہ مقولہ درست ہے کہ بدترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے بہتر ہے۔ ایوب خان کے دور کو لوگ ترقی کا دور کہتے ہیں لیکن اسی دور میں پاکستان میں سیاہ ترین دور شروع ہوا۔ کمزور وزیراعظم فیروز خان نون کے دور میں گوادر پاکستان میں شامل ہوا۔ اور مضبوط یحییٰ خان کے دور میں بنگلہ دیش ہم سے الگ ہو گیا۔ ہر ڈکٹیٹر کا دور سیاہ دور ہے اور کرپٹ جمہوری دور بھی بہتر ہے ہمیں اسی کمزور جمہوری دور کو مضبوط کرنا ہے۔حامد میر نے کہا کہ1971 کے انتخابات میں بھی بنگال میں دھاندلی کی کوشش کی گئی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئی ، بنگالیوں نے پاکستان نہیں توڑا یہ کوتائی ہم سے ہوئی، جن لوگوں نے ایوب خان کے صدارتی دور سے سبق نہیں سیکھا وہ صدارتی نظام کی بات کرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان میں ایک صوبہ کی حکومت چاہتے ہیں۔ حامد میر نے کہا کہ مونس الٰہی کے بیان کے بعد واضع ہوتا ہے کہ ادارہ غیرجانبدار تھا لیکن سربراہ سیاست میں شامل تھا اس کی وضاحت ہونی چاہئے، 28سال بعد پاکستان سو سال کا ہو گا اور آبادی چالیس کروڑ ہوگی اور ایک رپورٹ کے مطابق کراچی اور ٹھٹھہ سمندر کے نیچے چلا جائے گا اس کے لیے تیار اور ٹھیک ہونا چاہئے اس کے لیے ہر ایک کو قانون کے تابع ہونا چاہئے، پاکستان کا میڈیا سچ نہیں بول سکتا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…