کراچی۔۔۔۔متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے لوگ لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ، طالبان اور داعش کی حمایت کرتے ہیں۔سانحہ پشاور کے حوالے سے الطاف حسین نے کہا کہ ماضی میں پولیس اور ایف سی کی چوکیوں، فوج، بحریہ اور فضائیہ کے ہیڈ کوارٹرز، جی ایچ کیو ور دیگرحساس مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کئے اور مسلح افواج کے افسروں اور جوانوں سمیت ہزاروں بے گناہ افراد کو شہیدکیا لیکن سابق عسکری قیادت نے اس دہشت گردی کی روک تھام کے لئے اس طرح کا جرات مندانہ ایکشن نہیں کیا جس طرح موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف شمالی وزیرستان میں طالبان دہشت گردوں کاصفایا کرنے کے لئے کررہے ہیں اور رات دن اس میں مصروف ہیں۔ موجودہ حکومت مذہبی انتہا پسند جماعتوں کوسپورٹ کرتی ہے، انہیں مالی مددفراہم کرتی ہے،وہ طالبان دہشت گردوں کانام تک لینے کیلئے تیارنہیں ہے۔ گزشتہ روزکے اجلا س میں بھی خانہ پری کی گئی ہے۔ ایسے میں قوم کی واحدامید چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل رضوان اختر سے ہے کہ وہ پورے ملک سے دہشت گردوں کاصفایا کرنے کے لئے مزید ٹھوس اقدامات کریں گے۔
الطاف حسین نے کہا کہ طالبان کے دیگر دہشت گرد حملوں کی طرح پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے انتہائی ہولناک حملے اور قتل عام کے واقعے میں بھی طالبان دہشت گردوں کو اندر کے کچھ لوگوں کی مدد اور رہنمائی حاصل تھی لہٰذا آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل رضوان اختر ان اطلاعات کی تحقیقات کرائیں اور دیکھیں کہ ہماری صفوں میں کون لوگ ملے ہوئے ہیں۔
الطاف حسین نے گزشتہ روز ایم کیوایم کے چینیوٹ ڈسٹرکٹ کے نائب صدر اصغر عباس جعفری کے بیہیمانہ قتل کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس سے قبل لاہورمیں ایم کیوایم کی رکن قومی اسمبلی طاہرہ آصف اور ایم کیو ایم سیالکوٹ ڈسٹرکٹ کے نائب صدر باؤ محمد انور کو شہید کیا گیا اور آج ایم کیوایم چینیوٹ کے نائب صدراصغرعباس جعفری کوبیدردی سے گولیاں مار کر شہید کردیا گیا۔ پنجاب میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں اورکارکنوں کو چن چن کر قتل کیا جارہا ہے مگر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ لشکرجھنگوی، سپاہ صحابہ، طالبان اور داعش کو موجودہ حکومت کے لوگ سپورٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے اپیل کی کہ اصغرعباس جعفری، باؤ محمدانور اور طاہرہ آصف کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ ایم کیو ایم کے عہدیداروں کے بہیمانہ قتل کے خلاف کل پورے پنجاب میں سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے اور بازؤں پرسیاہ پٹیاں باندھی جائیں گی۔
الطاف حسین نے کہا کہ عمران خان نے اپنے مفاد کے لئے نواز شریف سے معاملات طے کرلئے اور مک مکا کرکے خود بنی گالہ روانہ ہوگئے جبکہ اپنے کارکنوں، نوجوانوں اور بہنوں بیٹیوں کو روتا ہوا چھوڑ گئے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ اس پر تحریک انصاف کے کارکنوں کو خود سوچنا چاہیے۔ عمران خان کو خود کو لبرل کہتے ہیں جبکہ انہوں نے ابھی تک طالبان کا نام لے کر اس کی مذمت تک نہیں کی۔
حکومت کے لوگ طالبان اور داعش کی حمایت کرتے ہیں، الطاف حسین
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار
-
لکڑی کا تختہ
-
وفاقی حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان
-
نئے بجٹ میں تنخواہ دارطبقے اور پنشنرزکی تنخواہوں میں اضافے کا امکان
-
معروف ٹک ٹاکر حکیم بابر کو مبینہ طور پر شربت میں زہریلی چیز پلا دی گئی، اسپتال منتقل
-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں میجر سرجری
-
یکم جون سے گرد آلود ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی! الرٹ جاری
-
پوجا بھٹ نے اپنے باپ مہیش بھٹ کے اسلام قبول کرنے کا انکشاف کردیا
-
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 250 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ
-
پسند کی شادی کرنیوالا لڑکاہلاک، لڑکی کی ٹانگیں توڑ دی گئیں
-
اقرار الحسن نے عمران خان سے معافی مانگ لی
-
ملک میں سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
عید کے موقع پر تصویر بنانے کے بہانے بلا کر مبینہ طور پر زہریلی چیز پلائی گئی،شکر ہے میری بیوی نے جوس...
-
امریکہ اور ایران میں معاہدہ طے پا گیا، صدر ٹرمپ کے دستخط کا انتظار



















































