بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

1965 کی جنگ ، نعرہ تکبیر کے بعد دشمن کے چار ٹینک تباہ

datetime 3  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) 1965ء میں بھارت کیخلاف جنگ میں پاکستانی سپوتوں نے عظیم قربانیوں کی داستانیں رقم کیں ، ان ہی سپوتوں میں ایک بریگیڈئیر (ر) محمد احمد بھی ہیں جنہوں نے تنہا دشمن کے چار ٹینک تباہ کر دیئے۔جنگ کے دوران اپنی شجاعت کی داستان بیان کرتے ہوئے بریگیڈئیر (ر) محمد احمد نے کہا کہ جنگ کے محاز سے واپسی پر میرے سینئر کرنل نے مجھے بتایا کہ دشمن چارواہ سے پاکستان میں داخل ہو چکا ہے اور تم نے ان کو پیچھے دھکیلنا ہے۔بریگیڈئیر محمد احمد اپنے فوجی دستے کے ساتھ چاروا کی طرف روانہ ہوئے چارواہ کے جنوب میں پہنچنے پر ان کو اندازہ ہوا کہ دشمن ٹینکوں کے ساتھ پاکستان میں داخل ہو چکا ہے۔دشمن کو دیکھتے ہی محمد احمد نے اپنے سکواڈ کو ان پر ٹوٹ پڑنے کا حکم دیا جس کے بعد زبردست فائرنگ اور گولہ باری شروع ہوگئی ، بریگیڈئیر (ر) محمد احمد نے بتایا کہ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے ایک ایسا ٹارگٹ مل گیا جو مجھے نہیں دیکھ سکتا تھا۔انھوں نے بتایا کہ دشمن کے چار ٹینک بالکل میرے سامنے مخالف سمت میں کھڑے تھے اور میں ان کی نظروں سے بالکل اوجھل تھا۔ میں نے سوچا کہ اپنے فوجی جوانوں کو اس طرف موڑ کر دشمن پر حملہ آور ہو جاﺅں لیکن اس میں کافی وقت لگ سکتا تھا۔بریگیڈئیر (ر) محمد احمد نے بتایا کہ میں نے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے چاروں ٹینکوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر دیا جس کے بعد ایک پر ایک دشمن کے چاروں ٹینک تباہ ہو گئے اور انہیں وہاں سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی ، عظیم سپوت کو قوم کا سلام،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…