اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری نے گزشتہ 16 جون کو پاک فوج کے بارے میں جو کچھ کہا اس کے برخلاف پیر کو وہ جہاں فوج کی تعریف میں رطب اللسان رہے وہیں وزیر اعظم نواز شریف کو آڑے ہاتھوں لیا۔ رواں سال جون کے وسط میں اسلام آباد میں اپنےخطاب کے دوران پاک فوج کے جنرلوں کے خلاف ریمارکس پر انہیں تمام اور متفرق کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بار وہ محتاط رہے اور اپنے سخت ترین بیان میں ان کی پوری توجہ وزیر اعظم نواز شریف پر مرکوز رہی۔ انہوں نے فوج یا رینجرز کے خلاف ایک لفظ تک نہیں کہا۔روزنامہ جنگ کے صحافی عثمان منظورکی رپورٹ کے مطابق جن کی تحویل میں آجکل ان کے دوست ڈاکٹر عاصم حسین ہیں۔ ماضی میں جنرلوں پر ان کی تنقید سے خود ان کے پارٹی ارکان نے ’’ذاتی رائے‘‘ قرار دے کر لاتعلقی اختیار کرلی تھی۔ میڈیا پر پیپلز پارٹی بے بس ہوگئی تھی کیونکہ کوئی بھی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا دفاع کرنے پر آمادہ نہ تھا۔ حکومت نے وزیر داخلہ کو آصف زرداری کے سخت جواب دینے کیلئے کہا اور خود وزیر اعظم نے دوسرے دن ان سے ملنے سے انکار کردیا تھا۔ تاہم پیر کو انہوں نے محتاط بیان جاری کیا۔ انہوں نے سرحدوں کی حفاظت اور دہشت گردی کےخلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کی تعریف کی لیکن ساتھ ہی حکمراں پاکستان مسلم لیگ(ن) سے کھلی جنگ کا بھی اعلان کردیا۔ لندن سےجاری اپنے بیان میں آصف علی زرداری نے کہا ’’ایسے وقت جب سرحدی دیہات پر دشمن کی شدید بمباری سے بے گناہ شہری شہید ہورہے ہیں جب پاک فوج سرحدوں پر اور دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہے، نواز شریف نے حقیقی دشمن کو چیلنج کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی مخالفین کو اپنا ہدف بنالیا۔ حکومتی اقدامات اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ اپنے فطری اتحادیوں طالبان اور دہشت گردوں کو بچانے کیلئے قوم کو تقسیم اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اس جنگ میں جان دینے والے جوانوں کو سلام پیش کیا۔‘‘ ڈھائی ماہ قبل آصف زرداری نے جو کچھ کہا تھا، یہ اس کے بالکل متضاد ہے۔16 جون2015 کو آرمی جنرلوں کے خلاف اپنے بیان میں یہ کہہ کر لہریں دوڑادی تھیں کہ بعض ادارے فہرستیں تیار کررہے ہیں لیکن وہ اپنی فہرست کے ذریعہ کئی چہرے بے نقاب کردیں گے۔ انہیں معلوم ہے عدالتوں میں کتنے مقدمات اور کتنے جنرلز شریک ہیں۔ ہمیں نشانہ نہ بنائو ورنہ سب کچھ الٹ کر رکھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں پانچ سال جیل میں رہا لیکن کمانڈو (پرویز مشرف) چند ماہ بھی قید برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا تھا جب کھڑا ہوں گا تو خیبر تا کراچی سب کچھ رک جائے گا۔ مذکورہ دونوں بیانات کے موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آصف زرداری اب سمجھ گئے ہیں وہ کسی کے خلاف بولنے کے متحمل نہیں ہوسکتے اور یہ کہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے جو2008 سے2013 تک اقتدار میں رہی اور سندھ تک محدود ہوگئی ہے وہ اب کس کو چیلنج کر سکتی ہے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
محمد عامر کی شاہین آفریدی کے بارے میں تین سال قبل کی گئی بات سچ ثابت ہوگئی
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جاکر ہم جنس سے شادی اور سیاسی پناہ کی کوشش کرنیوالا پاکستانی گرفتار
-
16سالہ کینسر کی مریضہ سے اجتماعی عصمت دری
-
بغیر کسی ایڈوانس کے مفت میں خواتین کو پنک اسکوٹیز دے رہے ہیں، بڑا اعلان
-
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ نئی قیمت جاری
-
بلاول بھٹو کا خود گاڑی چلاتے ہوئے ای چالان ہو گیا
-
خواتین پنک اسکوٹی شوہر یا بھائی کو چلانے نہ دیں، حکومت نے خبردار کردیا
-
امریکا اور ایران کے درمیان نئی تجاویز پر اتفاق ہوگیا، واشنگٹن ٹائمز
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
نمک اور آئینوں سے لاکھوں گھروں کو بجلی فراہم، حیرت انگیز منصوبہ



















































