ریاض۔۔۔۔۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کے ایک عالم دین نے خواتین کے حجاب سے متعلق ایک نیا فتویٰ جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ خواتین کو چہرے کا نقاب کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور انھیں خوبصورتی کے لئے بناؤ سنگھار کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ شیخ احمد الغامدی نے اپنے اس فتوے کے حق میں اپنی بے نقاب اہلیہ کے ساتھ ایک ٹی وی پروگرام میں شریک تھے۔ ان کی اہلیہ نے حجاب تو اوڑھ رکھا تھا لیکن چہرے کا پردہ نہیں کیا ہوا تھا۔ اس میں علامہ احمد الغامدی ماضی میں جاری کردہ اپنے ایک سابقہ فتوے پر ہی اظہار خیال کر رہے تھے۔ اس میں انھوں نے عام علماء4 کے برعکس خواتین کو اپنا چہرہ ظاہر کرنے اور میک اپ کرنے کی اجازت دی تھی۔ واضع رہے کہ فتوے کے بعد شیخ الغامدی کو دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔ ٹویٹر پر بعض لکھاریوں نے علامہ غامدی کی تضحیک کی ہے۔ خاص طور پر ٹیلی ویڑن پر اہلیہ کو چہرے کا پردہ نہ کرانے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور انھیں سخت سست کہا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر ان کی مخالفت ہی نہیں کی جارہی ہے بلکہ بعض لوگ ان کی حمایت میں میدان میں آئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت خواتین کے چہرے کے پردے کو مذہبی ضرورت تصور نہیں کرتی ہے اس لیے ان کی رائے کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔
خواتین کو چہرے کا نقاب کرنے کی ضرورت نہیں، سعودی عالم دین کا نیا فتوٰی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(آخری حصہ)
-
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کا امکان
-
عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتو ں میں اضافہ
-
سونے کی قیمت میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی کے بعد آج پھر بڑا اضافہ
-
ملک بھر میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی
-
ایران نے جنگ روکنے کیلئے 6 سٹریٹجک شرائط پیش کردیں
-
ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
-
قاسم خان نے عمران خان کا پیغام شیئر کردیا
-
ایران جنگ، خطے میں ہونیوالی اموات کی ہوشربا تفصیلات سامنے آگئیں
-
شادی کے خواہشمند افراد کیلئے اہم خبر
-
پاکستان کی ترکیہ و مصر کیساتھ مل کر موثر سفارتکاری ،ایران امریکہ کشیدگی میں کمی
-
پیٹرول مہنگا،پاکستان میں پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیاں مقبول ہونے لگیں
-
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ہائی اوکٹین پر لیوی بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری
-
خام تیل کی قیمتوں میں11 فیصد تک کمی ریکارڈ



















































