اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بادشاہ اورنگزیب نے سترہویں صدی کے نصف اخیر کے دوران ہندوستان پر حکومت کی ۔دہلی کی مشہور اورنگزیب روڈ سے کبھی آپ کا گزر ہو تو ایک عجیب سا احساس ہوگا، لگے گا جیسے آپ نے مذہبی شدت پسندی سے سیکولرزم یا مذہبی رواداری کا سفر طے کر لیا ہو۔یہاں اب صبح سویرے چہل قدمی کرنے سے آپ کے اندر سائنس کی محبت بھی پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ اب اس سڑک کو مرحوم سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کے نام سے منسوب کیا جا رہا ہے۔مغل بادشاہ اورنگزیب کو قوم پرست پسند نہیں کرتے اور شاید انھیں لگتا ہے کہ اس تاریخی سڑک سے ان کا نام و نشان مٹانے سے قوم کا وقار اور سر بلند ہو گا۔عبدالکلام آج کل بہت مقبول ہیں، انھیں مذہبی رواداری کی روشن مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن اب تختہ پلٹنے کے لیے تو بہت دیر ہوچکی ہے تو تختی ہی سہی۔اس ملک پر 49 سال حکومت کرنے والے طاقتور، سادگی پسند، کفایت شعار لیکن ’جابر‘ بادشاہ ابو المظفر محی الدین محمد یا عالمگیر اورنگزیب کو سبق سکھانے میں کچھ وقت تو لگا لیکن انصاف وقت کی بندشوں کا محتاج نہیں ہوتا۔اورنگزیب کو بھی اب احساس ہوگیا ہوگا کہ قوم پرستوں سے بے وجہ ’پنگا‘ لینا کوئی سمجھداری کی بات نہیں تھی۔ہندوستان میں آج کل زندگی اور موت پر بحث گرم ہے۔ حکومت کن حالات میں کسی شخص کی زندگی لے سکتی ہے اور ایک انسان کو کن حالات میں خود اپنی زندگی لینے کا حق حاصل ہے؟بحث دلچسپ بھی ہے اور انتہائی اہم بھی۔ جین مت کے ماننے والے اپنی ایک قدیم روایت کو قانونی باریکیوں سے باہر رکھنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ رسم سنتھارا یا سلیکھنا کے نام سے جانی جاتی ہے اور اس کے تحت بڑھاپے میں کچھ جین عقیدے کے ماننے والے خود اپنی مرضی سے زندگی ترک کرنے کے لیے کھانا پینا کم کرتے چلے جاتے ہیں۔جین عقیدے کے پیرو اپنی زندگی ختم کرنے کے حق کی قانونی لڑائی لڑ رہے ہیںراجستھان کی ہائی کورٹ کے مطابق یہ خود کشی ہے جبکہ جین مت کے رہنماو¿ں اور ملک کے کچھ سرکردہ وکیلوں کے مطابق یہ ایک مذہبی عقیدہ ہے جس پر عمل کرنے کا حق انھیں آئین کے تحت حاصل ہے جو ہر شہری کو اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ہندوستان میں اب بھی خود کشی کی کوشش کرنا جرم ہے۔ اگر جرم میں کامیاب ہوگئے تو کوئی بات نہیں، ناکام رہے تو جیل جانا پڑ سکتا ہے۔ سنتھارا جرم ہے یا نہیں، یہ فیصلہ تو اب سپریم کورٹ کرے گی لیکن اسے اگر جرم قرار دے بھی دیا گیا تو اس پر عمل درآمد کیسے ہوگا؟ کیا ہر جین گھر میں پولیس تعینات کی جائے گی، یہ دیکھنے کے لیے کہ سب نے ٹھیک سے کھانا کھایا ہے یا نہیں؟اور ان لوگوں کے بارے میں بھی کیا کوئی غور کر رہا ہے جنھیں غربت کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی سنتھارا کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے؟جہاں تک جان لینے کا سوال ہے، بحث پھانسی کی سزا ختم کرنے پر بھی ہو رہی ہے۔ وفاقی قانونی کمیشن کی تجویز ہے کہ صرف دہشت گردوں کو پھانسی دی جانی چاہیے۔ یعنی اگر آپ دہشت گرد نہیں ہیں اور زمین جائیداد کے جھگڑے میں اپنے بھائیوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں تب بھی آپ کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔اورنگزیب عالم گیر کے لیے یہ اچھی خبر ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جاکر ہم جنس سے شادی اور سیاسی پناہ کی کوشش کرنیوالا پاکستانی گرفتار
-
16سالہ کینسر کی مریضہ سے اجتماعی عصمت دری
-
بلاول بھٹو کا خود گاڑی چلاتے ہوئے ای چالان ہو گیا
-
بغیر کسی ایڈوانس کے مفت میں خواتین کو پنک اسکوٹیز دے رہے ہیں، بڑا اعلان
-
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ نئی قیمت جاری
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
خواتین پنک اسکوٹی شوہر یا بھائی کو چلانے نہ دیں، حکومت نے خبردار کردیا
-
امریکا اور ایران کے درمیان نئی تجاویز پر اتفاق ہوگیا، واشنگٹن ٹائمز
-
نمک اور آئینوں سے لاکھوں گھروں کو بجلی فراہم، حیرت انگیز منصوبہ
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد



















































