پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

اورنگزیب کی تختی پلٹ دی گئی

datetime 1  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بادشاہ اورنگزیب نے سترہویں صدی کے نصف اخیر کے دوران ہندوستان پر حکومت کی ۔دہلی کی مشہور اورنگزیب روڈ سے کبھی آپ کا گزر ہو تو ایک عجیب سا احساس ہوگا، لگے گا جیسے آپ نے مذہبی شدت پسندی سے سیکولرزم یا مذہبی رواداری کا سفر طے کر لیا ہو۔یہاں اب صبح سویرے چہل قدمی کرنے سے آپ کے اندر سائنس کی محبت بھی پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ اب اس سڑک کو مرحوم سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کے نام سے منسوب کیا جا رہا ہے۔مغل بادشاہ اورنگزیب کو قوم پرست پسند نہیں کرتے اور شاید انھیں لگتا ہے کہ اس تاریخی سڑک سے ان کا نام و نشان مٹانے سے قوم کا وقار اور سر بلند ہو گا۔عبدالکلام آج کل بہت مقبول ہیں، انھیں مذہبی رواداری کی روشن مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن اب تختہ پلٹنے کے لیے تو بہت دیر ہوچکی ہے تو تختی ہی سہی۔اس ملک پر 49 سال حکومت کرنے والے طاقتور، سادگی پسند، کفایت شعار لیکن ’جابر‘ بادشاہ ابو المظفر محی الدین محمد یا عالمگیر اورنگزیب کو سبق سکھانے میں کچھ وقت تو لگا لیکن انصاف وقت کی بندشوں کا محتاج نہیں ہوتا۔اورنگزیب کو بھی اب احساس ہوگیا ہوگا کہ قوم پرستوں سے بے وجہ ’پنگا‘ لینا کوئی سمجھداری کی بات نہیں تھی۔ہندوستان میں آج کل زندگی اور موت پر بحث گرم ہے۔ حکومت کن حالات میں کسی شخص کی زندگی لے سکتی ہے اور ایک انسان کو کن حالات میں خود اپنی زندگی لینے کا حق حاصل ہے؟بحث دلچسپ بھی ہے اور انتہائی اہم بھی۔ جین مت کے ماننے والے اپنی ایک قدیم روایت کو قانونی باریکیوں سے باہر رکھنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ رسم سنتھارا یا سلیکھنا کے نام سے جانی جاتی ہے اور اس کے تحت بڑھاپے میں کچھ جین عقیدے کے ماننے والے خود اپنی مرضی سے زندگی ترک کرنے کے لیے کھانا پینا کم کرتے چلے جاتے ہیں۔جین عقیدے کے پیرو اپنی زندگی ختم کرنے کے حق کی قانونی لڑائی لڑ رہے ہیںراجستھان کی ہائی کورٹ کے مطابق یہ خود کشی ہے جبکہ جین مت کے رہنماو¿ں اور ملک کے کچھ سرکردہ وکیلوں کے مطابق یہ ایک مذہبی عقیدہ ہے جس پر عمل کرنے کا حق انھیں آئین کے تحت حاصل ہے جو ہر شہری کو اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ہندوستان میں اب بھی خود کشی کی کوشش کرنا جرم ہے۔ اگر جرم میں کامیاب ہوگئے تو کوئی بات نہیں، ناکام رہے تو جیل جانا پڑ سکتا ہے۔ سنتھارا جرم ہے یا نہیں، یہ فیصلہ تو اب سپریم کورٹ کرے گی لیکن اسے اگر جرم قرار دے بھی دیا گیا تو اس پر عمل درآمد کیسے ہوگا؟ کیا ہر جین گھر میں پولیس تعینات کی جائے گی، یہ دیکھنے کے لیے کہ سب نے ٹھیک سے کھانا کھایا ہے یا نہیں؟اور ان لوگوں کے بارے میں بھی کیا کوئی غور کر رہا ہے جنھیں غربت کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی سنتھارا کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے؟جہاں تک جان لینے کا سوال ہے، بحث پھانسی کی سزا ختم کرنے پر بھی ہو رہی ہے۔ وفاقی قانونی کمیشن کی تجویز ہے کہ صرف دہشت گردوں کو پھانسی دی جانی چاہیے۔ یعنی اگر آپ دہشت گرد نہیں ہیں اور زمین جائیداد کے جھگڑے میں اپنے بھائیوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں تب بھی آپ کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔اورنگزیب عالم گیر کے لیے یہ اچھی خبر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…