منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم لیکن پاکستان میں پٹرول بدستور مہنگا

datetime 1  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں انٹرنیشنل مارکیٹ کے لحاظ سے کمی نہ آسکی۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں خام تیل کی کم قیمتوں کے لحاظ سے صارف کو ملنے والے ریلیف کی راہ میں ٹیکسوں کا پہاڑ حائل ہے۔حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کو ریونیو کمانے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ یکم ستمبر سے قیمتوں میں کمی کے خوش کن اعلان کے ساتھ ہی پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح بلندترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ یکم ستمبر سے صارفین پٹرول پر 23روپے جبکہ ڈیزل پر 33روپے فی لیٹر ٹیکس ادا کریں گے یکم ستمبر سے نافذ ہونے والی قیمتوں میں ٹیکسوں کی شرح میں ساڑھے 4 فیصد تک اضافہ کردیا گیاہے۔ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر سیلزٹیکس کی غیرمعمولی شرح کے اطلاق کی وجہ سے صارفین عالمی قیمتوں کے لحاظ سے ملنے والے ریلیف سے محروم ہیں۔ یکم ستمبرسے نافذکی جانے والی قیمتوں میں پٹرول کی بلاٹیکس قیمت 50.76جبکہ ڈیزل کی بلاٹیکس قیمت 49روپے لیٹربنتی ہے تاہم حکومت نے یکم ستمبرسے پٹرول کی فی لیٹرقیمت 73.76 روپے جبکہ ہائی اسپیڈڈیزل کی قیمت 82.04روپے فی لیٹرمقرر کی ہے۔خام تیل کی قیمتیں گزشتہ ساڑھے 6سال کی کم ترین سطح پر آچکی ہیں۔ امریکی منڈی میں خام تیل کی قیمت 47.81ڈالر جبکہ برنٹ مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 52ڈالر پر آچکی ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل اس سے قبل مارچ 2009میں اس سطح پرفروخت ہواتھا۔ خام تیل کی عالمی قیمتوں کے لحاظ سے ساڑھے 6سال قبل مارچ 2009کے دوران پٹرول کی مقامی قیمت 57.66روپے فی لیٹر تھی۔ یہ قیمت یکم دسمبر2008 کومقرر کی گئی تھی جو عالمی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ کے باوجود سرکاری خزانے کو نقصان سے بچانے کے لیے کئی ماہ تک برقرار رکھی گئی۔تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے پاکستان میں اس وقت پٹرول کی قیمت 57 سے 58روپے بنتی ہے تاہم ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے حکومت نے حاتم طائی کی قبرپر لات مارتے ہوئے 3روپے فی لیٹر کم کر کے یکم ستمبرسے پٹرول کی قیمت 73.76 روپے فی لیٹر مقرر کردی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…