پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

سیاسی کشیدگی، اسفندیار ولی بھی میدان میں کود پڑے

datetime 31  اگست‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی اور سنگین معاملات پر واضح مو ¿قف کے فقدان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت سیاسی قوتوں اور ریاستی اداروں نے جاری حالات اور پیچیدگیوں کا ادراک کرتے ہوئے قومی اتفاق رائے کا رویہ نہیں اپنایا تو اس کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہونگے۔ اپنے ایک تفصیلی بیان میں ا نہوں نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب غضب اور دیگر کارروائیوں کے باوجود دہشتگردی کا سلسلہ ختم نہیں ہو رہا اس میں کمی تو آگئی ہے تاہم پنجاب کے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کی شہادت اور دیگر واقعات اس جانب اشارہ ہے کہ دہشتگردی کا ایشو اور مسئلہ اب بھی شدت کے ساتھ موجود ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ 14 ماہ کے مسلسل آپریشن اور لاکھوں آئی ڈی پیز کی بے پناہ مشکلات کے باوجود شمالی وزیرستان کے متعدد علاقوں کو اب بھی کلئیر نہیں کرایا جا سکا اور شو ال، دتہ خیلل جیسے علاقے تاحال کشیدگی کی لپیٹ میں ہیں۔ افغانستان کے ساتھ مفاہمتی عمل اور مذاکرات کا سلسلہ رکھنے سے کئی سنگین مسائل پیدا ہو گئے ہیں جبکہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کی صورتحال نے ملک کے مجموعی حالات پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ا ±نہوں نے بعض سیاسی پارٹیوں پر ڈالے جانے والے مبینہ دباو پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان سیاسی قوتوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہیں جو کہ دہشتگردی کی نہ صرف مخالفت کر رہی ہیں بلکہ اس کا نشانہ بھی ہیں۔ یہ رویہ سیاسی ماحول کو خراب کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ایک اور مسئلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسفند یار ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان پھر سے احتجاج اور دھرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ وہ اس کے باوجود اعلیٰ عدالتوں سے شکایت کر رہے ہیں ہیں کہ الیکشن کمیشن نے ٹریبیونل حکمران جماعت کے متعدد ممبران قومی اسمبلی کو ان کی نشستوں سے محروم کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان کا اصل مقصد اور ایجنڈہ کیا ہے اور وہ ملک کو بحران سے کیوں دوچار کرنا چاہ رہے ہیں؟ یہ بات واضح ہو ئی ہے کہ عمران خان سازش ، دباو اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے ملک کے آئینی نظام ، طریقہ کار کو روند کر اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔ ا نہوں نے مزید کہا کہ اے این پی کو اس بات پر تشویش ہے کہ فاٹا کے متاثرین کی واپسی میں غیر ضروری تاخیر سے کام لیا جا رہا ہے جبکہ تعمیر نو اور متاثرین کی بحالی کا سلسلہ بھی سست روی کا شکار ہے، حالانکہ پچھلے برس وعدہ کیا گیا تھا کہ دونوں کام ہنگامی بنیادوں پر کیے جائیں گے۔ یہ امر جواب طلب ہے آئی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی میں غفلت کیوں برتی جا رہی ہے ا ±نہوں نے مزید کہا کہ بعض قوتیں آئین کی اٹھارویں ترمیم کو ناکام اور غیر مو ¿ثر بنانے کیلئے سازش کر رہی ہیں حالانکہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری کے حصول کیلئے بے پناہ قربانیاں دی جاچکی ہیں اور ہم خبر دار کرتے ہیں کہ ہماری آئینی اور سیاسی حقوق سے کھیلنے کا رویہ ترک کیا جائے ہم اس سلسلے میں ہم خیال جماعتوں سے بھی رابطے کر رہے ہیں تاکہ اٹھارویں ترمیم پر مکمل اور فوری عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔احتساب کے نام پر جاری کارروائیوں کے بارے میں اے این پی کے سربراہ نے مو ¿قف اپنایا کہ مبینہ الزامات کو میڈیا ٹرائیل کے ذریعے ا ±ٹھانے کے بجائے عدالتوں اور قانون کے غیر جانبدارانہ اور آزادانہ عمل پر چھوڑا دیا جائے۔ غیر جانبدارانہ اور بلاامتیاز احتساب کے حق میں ہیں تاہم اس کی آڑ میں کسی کی کردار کشی کی اجازت نہیں ہو نی چاہیے اور عدالتوں ، قانون کو اس کا کام کرنے دیا جائے۔اسفندیار ولی خان نے جاری کشیدگی اور حالات سے نمٹنے کیلئے وزیر اعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمنٹ اور سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لینے کیلئے اقدامات کریں تاکہ ملک اور فیڈریشن کو درپیش مشکلات ، چیلینجز اور حالات پر تبادلہ خیال کیا جائے اور ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…