جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ٹانگوں سے معذور سزائے موت کے قیدیوں کی پھانسی مسئلہ بن گئی

datetime 31  اگست‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت سے ٹانگوں سے معذور سزائے موت کے قیدیوں کو پھانسی دیئے جانے کا طریقہ کار آج (منگل )طلب کر لیا۔گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار الحق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ سزائے موت کے قیدی عبدالباسط کی والدہ نصرت پروین کی بیٹے کی پھانسی کیخلاف درخواست پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عبدالباسط کو اوکاڑہ کے شہری آصف ندیم کے قتل میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے ، عبدالباسط فیصل آباد جیل میں قید تھا کہ اسے فالج کا اٹیک ہوااور یہ دونوں ٹانگوں سے مفلوج ہو گیا، اب محکمہ داخلہ نے عبدالباسط کو پھانسی دینے کیلئے ڈیتھ وارنٹ جاری کئے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جیل قوانین کی دفعہ 362کی خلاف ورزی ہے، جیل قوانین کے مطابق پھانسی کا طریقہ کار مقرر ہے جس کے تحت پھانسی کے تختہ پرقیدی کو کھڑا کیا جائیگا ، دونوں ہاتھ باندھے جائیں گے اور پھر گلے میں پھندا ڈالا جائیگا مگر فالج ہونے کی وجہ سے عبدالباسط کھڑا نہ ہو سکتا ، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی آ چکی ہے جس میں قیدی کے فالج زدہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے لہٰذا معزز عدالت سے استدعاہے کہ ڈیتھ وارنٹ کالعدم کئے جائیں۔ فاضل بینچ نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں یہ صوابدیدی اختیار جیل ڈاکٹر کا ہے کہ وہ کسی قیدی کو بیماری کی بنیاد پر پھانسی دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرے، یہ معاملہ جیل ڈاکٹر کے روبرو اٹھانا چاہیے ۔جس پر وکیل نے کہا کہ پاکستان میںایسا کوئی قانون ہی موجود نہیںہے جو ٹانگوں سے مفلوج قیدی کو پھانسی دینے سے روکتا ہو۔ فاجل بینچ نے اس نشاندہی پر حیرت کااظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت کوحکم دیاکہ عدالت کو بتایا جائے کہ ٹانگوں سے مفلوج قیدیوںکو پھانسی دینے کے حوالے سے کیاطریقہ کار ہے۔مدعی مقدمہ غلام مصطفی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قیدی کی مفلوج ہونے کے حوالے سے میڈیکل رپورٹس جھوٹی ہیں، پہلے بھی ہر فورم پر قیدی کا مفلوج ہونے کا جواز مسترد ہو چکا ہے لہٰذا یہ درخواست خارج کی جائے، قیدی صرف پھانسی میں تاخیر پیدا کرنے کیلئے ایسے حربے استعمال کر رہا ہے۔ فاضل بینچ نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد درخواست پر مزید سماعت آج (منگل )تک ملتوی کر دی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…