پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

ٹانگوں سے معذور سزائے موت کے قیدیوں کی پھانسی مسئلہ بن گئی

datetime 31  اگست‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت سے ٹانگوں سے معذور سزائے موت کے قیدیوں کو پھانسی دیئے جانے کا طریقہ کار آج (منگل )طلب کر لیا۔گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار الحق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ سزائے موت کے قیدی عبدالباسط کی والدہ نصرت پروین کی بیٹے کی پھانسی کیخلاف درخواست پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عبدالباسط کو اوکاڑہ کے شہری آصف ندیم کے قتل میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے ، عبدالباسط فیصل آباد جیل میں قید تھا کہ اسے فالج کا اٹیک ہوااور یہ دونوں ٹانگوں سے مفلوج ہو گیا، اب محکمہ داخلہ نے عبدالباسط کو پھانسی دینے کیلئے ڈیتھ وارنٹ جاری کئے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جیل قوانین کی دفعہ 362کی خلاف ورزی ہے، جیل قوانین کے مطابق پھانسی کا طریقہ کار مقرر ہے جس کے تحت پھانسی کے تختہ پرقیدی کو کھڑا کیا جائیگا ، دونوں ہاتھ باندھے جائیں گے اور پھر گلے میں پھندا ڈالا جائیگا مگر فالج ہونے کی وجہ سے عبدالباسط کھڑا نہ ہو سکتا ، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی آ چکی ہے جس میں قیدی کے فالج زدہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے لہٰذا معزز عدالت سے استدعاہے کہ ڈیتھ وارنٹ کالعدم کئے جائیں۔ فاضل بینچ نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں یہ صوابدیدی اختیار جیل ڈاکٹر کا ہے کہ وہ کسی قیدی کو بیماری کی بنیاد پر پھانسی دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرے، یہ معاملہ جیل ڈاکٹر کے روبرو اٹھانا چاہیے ۔جس پر وکیل نے کہا کہ پاکستان میںایسا کوئی قانون ہی موجود نہیںہے جو ٹانگوں سے مفلوج قیدی کو پھانسی دینے سے روکتا ہو۔ فاجل بینچ نے اس نشاندہی پر حیرت کااظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت کوحکم دیاکہ عدالت کو بتایا جائے کہ ٹانگوں سے مفلوج قیدیوںکو پھانسی دینے کے حوالے سے کیاطریقہ کار ہے۔مدعی مقدمہ غلام مصطفی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قیدی کی مفلوج ہونے کے حوالے سے میڈیکل رپورٹس جھوٹی ہیں، پہلے بھی ہر فورم پر قیدی کا مفلوج ہونے کا جواز مسترد ہو چکا ہے لہٰذا یہ درخواست خارج کی جائے، قیدی صرف پھانسی میں تاخیر پیدا کرنے کیلئے ایسے حربے استعمال کر رہا ہے۔ فاضل بینچ نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد درخواست پر مزید سماعت آج (منگل )تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…