منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں نئے چیلنجز کو جنم دے رہی ہیں،وزیر اعظم

datetime 19  اکتوبر‬‮  2022 |

اسلام آباد(این این آئی) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقے ابھی بھی زیر آب ہیں جن میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں نئے چیلنجز کو جنم دے رہی ہیں،چینی وفد کو تجویز دونگا وطن واپسی سے پہلے پاکستانی حکومت کے ساتھ ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں تعاون کے معاہدہ پر دستخط کرکے جائیں۔ بدھ کو وزیر اعظم شہباز شریف سے اسلام آباد میں

چینی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ماہرین کے خصوصی وفد نےXu Xianbiao Emergency Commanding Officerڈیپارٹمنٹ آف فلڈ کنٹرول، وزارتِ ایمرجنسی مینجمنٹ، چین کی قیادت میں ملاقات کی جس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، شیری رحمن، معاونِ خصوصی طفر الدین محمود، چیئرمین این ڈی ایم ا ے اور چیئرمین این ایف آر سی سی کے علاوہ متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ملاقات میں وفد نے وزیرِ اعظم کو اپنے دورہ پاکستان کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ چینی وفد سیلاب سے متعلق ماہرین پر مشتمل ہے جو پاکستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں بالخصوص سندھ کا دورہ کرکے آیا ہے،وفد پاکستان اور چین کے مابین سیلاب کی پیش گوئی اور اس کے اثرات کو کم کرنے کیلئے انفراسٹرکچر کی تعمیر میں پاکستان کو قلیل، وسط اور طویل مدتی منصوبوں پر تکنیکی معاونت فراہم کریگا ۔چینی وفد نے متعلقہ پاکستانی اداروں و حکام سے تعاون کیلئے ورکنگ گروپ تشکیل دے دئے ہیں اور 21 اکتوبر کواین ڈی ایم اے کو متاثرہ علاقوں میں لوگوں اور انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے تفصیلی پلان اور رپورٹ پیش کرے گا۔وزیرِ اعظم نے وفد کی کاوشوں کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ قدرتی آفات کے دوران ریسکیو اور ریلیف کے حوالے سے چینی ماہرین کا تجربہ، پاکستان کیلئے مستقبل میں بھی مفید ثابت ہوگا۔وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستانیوں کی اس مشکل گھڑی میں مدد پر چینی قیادت اور چین کے عوام کی مجھ سمیت پوری پاکستانی قوم شکر گزار ہے۔ شہباز شریف نے کہاکہ چین نے پاکستان کی ہر مشکل وقت میں مدد کی، یہ پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات کی عمدہ مثال ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقے ابھی بھی زیرِ آب ہیں جن میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں نئے چیلنجز کو جنم دے رہی ہیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان اور چین میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں کی طرف سے وزیرِ اعظم فلڈ ریلیف فنڈ میں عطیات پر انکے مشکور ہیں



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…