منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

بینک لین دین ٹیکس کے باعث زیر گردش کرنسی نوٹ 91 فیصد بڑھ گئے

datetime 31  اگست‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)بینکاری لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس نے بینکوں کے کھاتے خالی کردیے۔ دوسری جانب ملک میں زیر گردش نوٹوں کی مالیت میں بھی نمایاں اضافہ ہورہا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق یکم جولائی 2015سے 14اگست 2015کے دوران ملک میں زیر گردش کرنسی نوٹوں کی مالیت میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 91فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں زیر گردش نوٹوں کی مالیت میں 117ارب 57کروڑ 80لاکھ روپے کا اضافہ ہوا تھا تاہم رواں مالی سال کے دوران ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کی وجہ سے معیشت میں نقد لین دین بڑھنے، کھاتے داروں میں بینکوں سے رقوم نکلوانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے زیر گردش نوٹوں کی مالیت میں 225ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ مالیت گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں زیر گردش نوٹوں کی مالیت سے 107ارب 42کروڑ 60لاکھ روپے زائد ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ودہولڈنگ ٹیکس کی وجہ سے زیر گردش نوٹوں کی مالیت میں گزشتہ مالی سال کے دوران اوسط ماہانہ کے تناسب سے بھی غیرمعمولی طور پر اضافہ کا رجحان ہے۔
گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر زیر گردش نوٹوں کی مالیت میں 376ارب 87کروڑ 70لاکھ روپے کا اضافہ ہوا تھا اور اوسط ماہانہ اضافہ 31ارب 40کروڑ 64 لاکھ روپے تک محدود تھا تاہم رواں مالی سال کے پہلے ڈیڑھ مہینوں میں 107ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے رواں مالی سال 14اگست تک بینکنگ سیکٹر بشمول اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینک مجموعی طور پر 157ارب 18کروڑ روپے کے قرضے لیے ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 120ارب 63کروڑ روپے کے قرضے لیے گئے تھے۔
رواں مالی سال کے دوران حکومت نے اسٹیٹ بینک پر اپنا انحصار کم کرتے ہوئے شیڈول بینکوں سے قرض گیری بڑھادی ہے اور شیڈول بینکوں سے قرض لیتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے قرضوں میں کمی لائی جارہی ہے۔ رواں مالی سال کے دوران اب تک حکومت نے اسٹیٹ بینک کو 148ارب روپے سے زائد کے قرضے واپس کیے جبکہ اسی دوران میں شیڈول بینکوں سے 307ارب 27 کروڑ روپے کے قرضے حاصل کیے گئے۔ نجی شعبے کے قرضوں میں کمی کا رجحان رواں مالی سال بھی برقرار ہے۔ رواں مالی سال کے دوران اب تک نجی شعبوں نے 88ارب 65کروڑ روپے کے قرضے لوٹائے ہیں جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 78کروڑ 90لاکھ روپے کے قرضے لوٹائے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…