جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

بھارتی حملوں میں 8 شہادتوں کے باوجود مقامی آبادی پُرعزم

datetime 29  اگست‬‮  2015 |

سیالکوٹ(نیوزڈیسک)سیالکوٹ کے سرحدی گاوں ”کندن پور “ نے آٹھ شہدا کے لہو کا خراج دے کر بھارتی جارحیت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا، شہادتوں کے باوجود، مقامی آبادی کے حوصلے جوان ہیں اور عزم فولادی، بچے آج بھی اسکول گئے، روز مرہ کا کام بھی جاری رہا۔سیالکوٹ سے تیرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کندن پور گاﺅں آزمائش کی بھٹی سے گزر کر کندن بن چکا ہے، اپنے لہو کا خراج دے کر اس گاﺅں کے آٹھ شہیدوں نے اقوام عالم کے سامنے بھارت سرکار کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا ہے،چھیالیس سے زائد زخموں سے چور ہیں، یہاں کے درودیوار بدمست طاقت کے نشے میں دھت بھارتی فورسز کی اس جارحیت کی داستاں سنارہے ہیں جنہیں دلی سرکارسات پردوں میں بھی نہیں چھپاسکتی۔ ورکنگ باﺅنڈری پر پاکستان کی پہلی دفاعی لائن، کندن پور کی فضا اپنے پیاروں کی یاد میں سوگوار ہے، جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے آگ اگلتی بھارتی بندوقوں نے یہاں کے آٹھ باسیوں کا زندگی سے ناتا توڑا،لیکن پوری آبادی کا حوصلہ نہ توڑسکیں،مکینوں کی ہمتیں جواں ہیں اور عزم چٹان کی طرح مضبوط۔ اسکولوں میں اساتذہ کی موجودگی بتارہی ہے کہ جارحیت کی سیاہ آندھی کے سامنے قدم ڈگمگائے نہیں ہیں،بلکہ مضبوطی سے زمین پر جمے ہیں،یہ تو صرف ایک جگہ کا احوال ہے،ورکنگ باﺅنڈری کے دیگر سیکٹرز چار واہ اور چپراڑ میں بھی بھارتی سورماﺅں نے نہتے شہریوں پر اپنی طاقت کا زور آزمایا ہے،جس کا پاکستانی فورسز نے منہ توڑ جواب دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…