اتوار‬‮ ، 10 مئی‬‮‬‮ 2026 

وزیر اعظم شہباز شریف عدالت میں پیش ہو گئے

datetime 9  ستمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے پیش ہوکر معاملے کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاہے کہ ملک کی عدالتوں کو جوابدہ ہوں، مجھے جا کر اپنے رب کو بھی جواب دینا ہے، میں یہاں الزام تراشی والی گیم کھیلنے نہیں آیا،لاپتہ افراد کمیٹی کے ہر اجلاس کی نگرانی کروں گا اور عدالت میں رپورٹ پیش کروں گا،

رپورٹ کوئی کہانی نہیں ہوگی، حقائق پر مبنی ہوگی،4 سالوں میں 2 مرتبہ جیل گیا، میرے اہلخانہ نے بھی اذیت دیکھی، میں نے بطور وزیر اعلی پنجاب اپنا خون پسینہ بہایا ہے،یہ نہیں کہتا سارے لاپتہ افراد بازیاب ہوں گے مگرکوئی کسر نہیں چھوڑیں گے جبکہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاہے کہ جبری گمشدگیاں آئین سے انحراف ہیں،ایسا تاثر نہیں ہونا چاہیے قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کو اٹھائیں،گورننس کے بہت مسائل ہیں اور وہ تب ہی ختم ہوں گے جب آئین بحال ہو گا، زیادہ تر قانون نافذ کرنے والے ادارے وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں،کمیٹیاں بنتی رہی یقین دہانی کرائی جاتی رہی ،کوئی کام نہیں ہوا،شہریوں کو لاپتہ کرنا آئین توڑنے کے مترادف ہے، آمنہ مسعود جنجوعہ نے کمیشن کے متعلق بہت کچھ بتایا، کمیشن لاپتہ افراد کے لواحقین پر مرہم رکھنے کے بجائے انکو اذیت دیتے رہے،جنھوں نے آئین کی خلاف ورزی کی انکے خلاف کارروائی ہونی چائیے، معاملات کو پارلیمنٹ میں لے کر جائیں ان پر قانون سازی کریں،لوگوں کو لاپتہ کرنا ناقابل برداشت ہے، عدالت چیف ایگزیکٹو کو ذمہ دار ٹھہرائیگی، اس ملک میں کوئی بھی آئین سے بالاتر نہیں، یہ عدالت سول سپریمیسی کی آئین کی منشا کو یقینی بنائے گی،قانون کی خلاف ورزی ہوتی رہی تو ہر حکمران ذمہ دار ہے۔ جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔آمنہ مسعود جنجوعہ سمیت لاپتہ افراد کے لواحقین عدالت پہنچے

جبکہ لاپتہ صحافی مدثر نارو کا کم سن بیٹا بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے شہباز شریف نے ان سے ملاقات کی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو وزیر اعظم شہباز شریف، اٹارنی جنرل اور وزیر قانون روسٹرم پر آئے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وزیراعظم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس ملک کے منتخب نمائندے اور چیف ایگزیکٹو ہیں،

اس عدالت نے آپ کو اس لیے تکلیف دی ہے کہ کیوں کہ یہ بہت بڑا ایشو ہے، ریاست کو وہ رسپانس نہیں آرہا جو آنا چاہیے تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک چیف ایگزیکٹو نے اس ملک میں 9 سال حکمرانی کی ہے، انہوں نے اپنی کتاب میں فخریہ لکھا کہ اپنے لوگوں کو بیرون ملک فروخت کیا، یہ عدالت تفتیشی ایجنسی نہیں ہے، بہت دفعہ عدالت نے یہ معاملہ فیڈرل کیبنٹ کو بھیجا، فیڈرل کیبنٹ کو کوئی ایسا رسپانس نہیں دیا جو آنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے ایک کمیٹی بنائی، یہ آئینی عدالت ہے، یہ معاملہ صرف کمیٹی کا نہیں، لاپتہ افراد کیلئے کمیشن بنا، لاپتہ افراد کی فیملی بیٹھی ہیں انہوں نے کمیشن کے متعلق بہت سی باتیں بتائیں، ریاست کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ پوری ہونی چاہیے،

لوگ بازیاب ہوئے لیکن کبھی کوئی ایکشن نہیں ہوا، یہ عدالت آئین کو دیکھے گی اس سے بڑا ایشو کوئی بھی نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس عدالت میں بلوچ طلبہ کے تحفظات سامنے آرہے ہیں، ایسا تاثر نہیں ہونا چاہیے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کو اٹھائیں، یہ تاثر ہماری نیشنل سیکورٹی کو متاثر کرتا ہے،

سیاسی قیادت نے اس مسئلہ کو حل کرنا ہے، لوگوں کو لاپتہ کرنا ٹارچر کی سب سے بڑی قسم ہے، عدالت کے پاس کوئی اور راستہ نہیں کہ صرف ایگزیکٹو سے پوچھے، آپ سیلاب متاثرین کیلئے کام کر رہے ہیں اور اس ایشو کو سمجھتے ہوئے عدالت آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں آئین سے انحراف ہیں، اس ملک کی نیشنل سیکیورٹی آپ وزیراعظم ہیں، آپ کے ہاتھ میں ہے،

اس عدالت کا آپ پر اعتماد ہے، آپ اس کا حل بتا دیں، ایک چھوٹا بچہ ادھر آتا ہے اس کو یہ عدالت کیا جواب دے، اس وقت کے وزیراعظم سے بھی بچہ کی ملاقات ہوئی، یہ عدالت جبری گمشدگیاں کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائے،اس پر شہباز شریف نے جواب دیا کہ یہ سب میری ڈیوٹی ہے۔چیف جسٹس نے وزیر اعظم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ گورننس کے بہت مسائل ہیں اور وہ تب ہی ختم ہوں گے

جب آئین بحال ہو گا، زیادہ تر قانون نافذ کرنے والے ادارے وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں۔شہباز شریف نے جواب دیا کہ مجھے جب آپ کا حکم ملا تو میں عدالت کے سامنے پیش ہو گیا، آپ نے بہت اہم آبزرویشنز دی ہیں، میں کوئی عذر پیش نہیں کروں گا، بچہ نے کہا وزیراعظم میرے ابو کو مجھ سے ملا دیں، یہ جملہ میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے، میں یقین دلاتا ہوں میں پوری کوشش کروں گا،

میں اس ملک کی عدالتوں کو جوابدہ ہوں، مجھے جا کر اپنے رب کو بھی جواب دینا ہے، میں یہاں الزام تراشی والی گیم کھیلنے نہیں آیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دی ہے اور اس کی 6 میٹنگز ہو چکی ہیں، میں اپنے عوام کو بھی جوابدہ ہوں، ناقابل تردید ثبوت عدالت کے سامنے رکھوں گا،

حقائق خود بولتے ہیں، میں بہت سادہ آدمی ہوں اللہ مجھے معاف کرے، لاپتہ افراد کمیٹی 6 اجلاس کرچکی، لاپتہ افراد کمیٹی کے ہر اجلاس کی نگرانی کروں گا اور عدالت میں رپورٹ پیش کروں گا، رپورٹ کوئی کہانی نہیں ہوگی، بلکہ حقائق پر مبنی ہوگی،انہوں نے کہا کہ 4 سالوں میں 2 مرتبہ جیل گیا، میرے اہلخانہ نے بھی اذیت دیکھی، میں نے بطور وزیر اعلی پنجاب اپنا خون پسینہ بہایا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا وقت بہت قیمتی ہے، ہم آپ کا زیادہ وقت نہیں لینا چاہتے۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ آپ آئین کا آرٹیکل 7 پڑھیں، اٹارنی جنرل نے آئین کا آرٹیکل 7 پڑھ کر سنایا جس کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ اب بتائیں لاپتہ افراد کا ذمہ دار کون ہے،

اسلام آباد سے دو بھائی غائب ہوئے آج تک ان کا پتا نہیں چلا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے جواب دیا کہ لاپتہ افراد کیسز میں آپ کو ہمارا رویہ نظر آئیگا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ کمیٹیاں بنتی رہی یقین دہانی کرائی جاتی رہی لیکن کوئی کام نہیں ہوا۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں یہ تو نہیں کہتا سارے لاپتہ افراد بازیاب ہوں گے لیکن کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، ڈکٹیٹر کی پالیسیوں کا میں اور میرا بھائی بھی نشانہ بنا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سابق سربراہ نے تسلیم کیا کہ شہریوں کو لاپتہ کرنا ریاستی پالیسی تھی، آئین کے مطابق کوئی بھی شہری لاپتہ ہو تو ریاست ذمہ دار ہوتی ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے جواب دیا کہ اس چیف ایگزیکٹو کے دور میں ہمیں ملک بدری میں رہنا پڑا،

یہ ملک اس شخص کی وجہ سے بہت متاثر ہوا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شہریوں کو لاپتہ کرنا آئین توڑنے کے مترادف ہے، آپ کو اس لیے بلایا کہ ریاست سمجھ سکے کتنا بڑا ایشو ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جب میں وزیر اعلی پنجاب تھا تو ہر زبان والے طلبہ کو پنجاب میں داخلے دئیے،

بلوچ، پشتون، سندھی پنجابی سب طلبا کو دانش سکولز میں فری داخلے دلوائے، بلوچ، پشتون، سندھی اور پنجابی سارے پاکستانی ہیں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ عدالت پارلیمنٹ کا بہت احترام کرتی ہے، تمام صوبوں کے چیف ایگزیکٹو بھی ذمہ دار ہیں اگر ان کے علاقے سے کوئی اٹھایا جاتا ہے،

اس عدالت کے فیصلے سے پہلے ایگزیکٹو نے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی لاپتہ افراد نہیں ہوں گے۔اس موقع پر رانا ثنا اللہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کمیشن کے متعلق بہت کچھ بتایا، کمیشن لاپتہ افراد کے لواحقین پر مرہم رکھنے کے بجائے انکو اذیت دیتے رہے، جنھوں نے آئین کی خلاف ورزی کی انکے خلاف کارروائی ہونی چائیے،

معاملات کو پارلیمنٹ میں لے کر جائیں ان پر قانون سازی کریں، بھارت نے یہی کیا، دیگر ممالک نے یہی کیا۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو لاپتہ کرنا ناقابل برداشت ہے، عدالت چیف ایگزیکٹو کو ذمہ دار ٹھہرائیگی، اس ملک میں کوئی بھی آئین سے بالاتر نہیں، یہ عدالت سول سپریمیسی کی آئین کی منشا کو یقینی بنائے گی۔چیف جسٹس نے وزیراعظم سے استفسار کیا کہ جبری گمشدگیوں پر سیکیورٹی کونسل کے ہر رکن کو عدالت ذمہ دار ٹھہرائے؟

لاپتہ افراد کے پرانے کیسز پر لواحقین کو مطمئن کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، آئندہ کسی شخص کو لاپتہ نہیں ہونا چاہیے، تلاش کرنا عدالت کا نہیں ریاست کا کام ہے، ریاست کے پاس ایجنسیز ہیں، دیگر ذرائع ہیں، جائیں اور تلاش کریں۔دوران سماعت وزیر قانون نے کہا کہ 21 سالہ کیس 10 دن میں حل کرنے کا کہنا

تو درست بات نہیں ہو گی۔چیف جسٹس نے کہا کہ سول بالادستی اور اداروں پر حکومت کا کنٹرول آئین کے مطابق ہونا چاہیے، وفاقی دارالحکومت سے ایک صحافی کو اٹھایا گیا جس کی ویڈیوز موجود ہیں، یہ عدالت کیسے مان لے کہ ریاست اتنی کمزور ہے کہ اس کی تحقیقات نہ کر سکے،

ایس ای سی پی کے ایک افسر کو اٹھایا گیا اس نے واپس آ کر کہا کہ شمالی علاقہ جات کی سیر کو گیا تھا۔اس موقع پر مدثر نارو کی والدہ نے کہا کہ ہم فروری 2019 میں دھرنے پر بیٹھے تھے، رانا ثنا اللہ صاحب ہمارے فیصل آباد کے ہیں ان کو کافی اپیلیں کی ہیں، ہم آرمی کی عزت کرتے ہیں،

چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں بھی عزت ہی کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کسی شہری کو شک بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ان کو کون اٹھاتا ہے، وزیراعظم صاحب یہ نیشنل سیکورٹی کا ایشو ہے، ریاست کے اندر ریاست نہیں ہے نا یہ عدالت مانتی ہے، آئین سپریم ہے اور اس پر عمل ہو گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آپ کا پیغام واضح ہے۔اس دوران وزیر قانون نے عدالت کو توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ

یو این سیکریٹری جنرل کو وزیراعظم سے ملنے ساڑھے 10 بجے آنا ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ کا شکریہ کہ آپ آئے، جبری گمشدگیوں کو ختم کرنا آپ کی ذمہ داری ہے، جبری گمشدگیاں آئین سے انحراف ہیں۔بعد عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف کو جانے کی اجازت دے دی۔سماعت کو آگے بڑھاتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ

اگر قانون کی خلاف ورزی ہوتی رہی تو ہر حکمران ذمہ دار ہے، یہ عدالت آئین کو دیکھے گی اور اس کے بعد ایک فیصلہ دے گی۔انہوں نے اٹارنی جنرل اشترت اوصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ تیار ہیں تو دلائل دیں پھر عدالت ایک فیصلہ دے، ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے جس کی ذمہ داری ہوتی ہے وہ کہتا ہے میں کیا کر سکتا ہوں، یہ بہانہ بنایا جاتا ہے کہ میرے پاس تو اختیار ہی نہیں

اختیار تو کسی اور کے پاس ہے، اگر آپ ذمہ داری نہیں لے سکتے تو پھر اپنا آفس چھوڑ دیں۔اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے جواب دیا کہ دلائل وہاں دئیے جاتے ہیں جب اختلاف ہو، میں نے، وزیر قانون اور وزیر داخلہ نے اس معاملے پر بہت سنجیدگی سے مشاورت کی ہے، خدا کی قسم اگر پاکستان نہ ہو تو میں یہاں کھڑا نہ ہوں، میں نے اس عدالت سے جا کر اس عدالت کی بنائی کمیٹی کے

ارکان کو فون کر کے بات کی، میں نے اسد عمر کو بھی کال کی، صرف چیئرمین سینیٹ سے رابطہ نہیں ہوا، ان سے ذاتی طور پر ملنے جائوں گا۔انہوں نے کہا کہ آپ نے وزیراعظم کی ذمہ داری لگائی ہے، ہم کام کریں گے، آپ ہمیں تھوڑا موقع دیں پھر آپ کو شکایت نہیں ہو گی، اگر ہم ذمہ داری پوری نہ کر سکے تو میں آ کر کہوں گا کہ میں ناکام ہو گیا۔اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ متحدہ حکومت ہے

اور حکومت کے اتحادیوں کا یہ اپنا مسئلہ ہے، اس حکومت نے اس لئے ایک کمیٹی تشکیل دی تاکہ معاملے کی گہرائی تک پہنچ سکیں، پرامید ہوں کہ ہم کسی منطقی انجام تک پہنچ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں 2 ماہ کا وقت چاہیے، یہ کام 2 دن میں نہیں ہو سکتا، اس عدالت کی نگرانی موجود رہے تو شاید ہم کسی حل کو پہنچ جائیں گے، جب یہ کیس چل رہا ہے تو ہمیں بھی احساس ہے کہ یہاں جواب دینا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت ایک فیصلہ دینا چاہتی ہے، وہ ان مسائل کے حل میں فائدہ دے گا۔

وزیر قانون نے جواب دیا کہ یہ عدالت سول بالادستی کے بعد سب سے زیادہ تکریم پارلیمنٹ کو دیتی ہے، ورنہ جتنی بے توقیری پارلیمنٹ کی ہوئی کسی ادارے کی نہیں ہوئی، پارلیمنٹ کو تالے لگائے گئے، پارلیمنٹ کے ممبران نے بھی جو اس کے ساتھ کیا وہ سب کے سامنے ہیں، یہاں پر جگہ جگہ بارودی سرنگیں ہیں ان کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔دوران سماعت فرحت اللہ بابر نے کہا کہ

پارلیمان نے اپنا کام 2015 میں مکمل کر لیا تھا، پارلیمان کا خیال تھا کہ اس کے پیچھے انٹیلی جنس ایجنسیز ہیں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا انٹیلی جنس ایجنسیز کس کے ماتحت ہیں؟ کوئی چیف ایگزیکٹو خود کو بے بس ہونے کا بہانہ نہیں بنا سکتا، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس عدالت میں چیزیں خراب ہو رہی ہیں لیکن رجسٹرار ذمہ دار ہے، اگر آپ یہ جواز دے رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ

یہاں ریاست کے اندر ریاست ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی جنرل پرویز مشرف کی پالیسی کو جاری رکھے تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں مجبور ہوں، اگر کوئی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتا اور سمجھتا ہے کہ وہ مجبور ہے تو وہ اسکا ذمہ دار ہے، اگر چیف ایگزیکٹو کہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں میرے ماتحت نہیں تو وہ آئین سے انحراف تسلیم کرتا ہے، جو چیف ایگزیکٹو یہ تسلیم کر لے اس کو پھر عہدہ چھوڑ کر گھر جانا چاہیے۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارلیمان نے 2015 میں قانون بنا کر ایگزیکٹو کو بھیج دیا تھا، ایگزیکٹو کا کام تھا اسے نافذ کرتا یا مکالمہ کرتا آ کر کہ کیوں نہیں ہو سکتا، چیف ایگزیکٹو پارلیمان کو ہی جوابدہ ہے، کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمان عملدرآمد نہیں کروا پائی؟

پارلیمان اتنی مضبوط ہے کہ وہ وزیراعظم کو بھی ہٹا سکتی ہے،عدالت یہ بات کہہ کر پارلیمان کی بیتوقیری نہیں کرنے دے گی۔وزیر قانون نے کہا کہ حقائق ذرا مختلف ہیں، جو کچھ ہم نے دیکھا اس کو درست کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں لگتا ہے کہ مزید قانون سازی کی بھی ضرورت ہے، 2 سے 8 ہفتے کا وقت دیں

چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی ایسا فورم ان کو بتا دیں جو مسنگ پرسنز کے لواحقین کے لئے ہر وقت دستیاب ہو، یہ ایک دوسرے پر الزامات کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا وقت ہے۔دوران سماعت آمنہ مسعود جنجوعہ نے وزیر داخلہ سے چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن جاوید اقبال کو ہٹانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ

لاپتہ افراد کمیشن میں کوئی جانے کو تیار نہیں، اس کا کچھ کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت لاپتہ افراد کیسز کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں واپس لے۔وزیر قانون نے کہا کہ ہمارے بہت سارے اداروں نے بہت قربانیاں دی ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جس وقت کی آپ بات کر رہے ہیں

اس وقت پنجاب تو پھر بہتر تھا تاہم خیبرپختونخوا میں روزانہ دھماکے ہوتے تھے۔وزیر قانون نے جواب دیا کہ کریمنل جسٹس سسٹم میں لا ریفارمز لانے ہیں، ہمیں 8 سے 10 ہفتے دے تاکہ ہم اس پر کام مکمل کرلیں۔درخواست گزاروں کی اجازت پر عدالت نے وزیر قانون کو 2 ماہ کا وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 14 نومبر تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)


سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…