اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

فیس بک ڈس لائک کا بٹن بھی شامل کریگی

datetime 15  دسمبر‬‮  2014 |

کیلیفورنیا ۔۔۔۔ سماجی روابط کے لیے دنیا کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کا کہنا ہے کہ کمپنی پیغامات کو ’ڈس لائک‘ یا ناپسند کرنے کا بٹن شامل کرنے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے۔امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سوال و جواب کے ایک سیشن کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ڈس لائک‘ کی سہولت وہ چیز ہے جس کی فرمائش سب سے زیادہ فیس بک صارفین کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ویب سائٹ کو یہ بٹن متعارف کروانے سے پہلے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ یہ کہیں صارفین کے پیغامات کو نیچا دکھانے کی کوشش میں استعمال نہ ہو۔فیس بک کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق روزانہ اس کے صارفین ساڑھے چار ارب پیغامات کو پسند کرتے ہیں یعنی ’لائک‘ کا بٹن دباتے ہیں۔فیس بک کے صدر دفتر میں بات چیت کے دوران مارک زکربرگ نے کہا کہ ’ایک چیز جو ہم خاصے عرصے سے سوچ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ایسا کیا طریقہ ہو سکتا ہے جو لوگوں کے جذبات کا صحیح عکاس بن سکے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’بہت سے لوگ اپنی زندگی کے افسردہ یا اداس پہلو فیس بک پر دوسروں سے شیئر کرتے ہیں۔ ہمیں اکثر لوگ بتاتے ہیں کہ وہ ان پیغامات کو لائک نہیں کرنا چاہتے کیونکہ یہ مناسب نہیں لگتا۔‘فیس بک کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق روزانہ صارفین ساڑھے چار ارب پیغامات کو پسند کرتے ہیں۔مارک زکربرگ نے کہا کہ ساتھ ساتھ ایسے بھی لوگ ہیں جو کسی پوسٹ پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے لیے ’ڈس لائک‘ کا بٹن مانگ رہے ہیں جو ’ہمارے خیال میں ایک اچھا خیال نہیں ہے‘۔انھوں نے کہا کہ ’میرے نزدیک لوگوں کو ان کے مختلف جذبات کی ترجمانی کرنے کے لیے مختلف طریقے فراہم کرنا بہت اہم ہے۔‘خیال رہے کہ حال ہی میں فیس بْک نے جعلی فیس بْک لائکس کرانے والے نیٹ ورکس کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہوئے ایسے اکاؤنٹس کو جارحانہ طور پر ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک قانونی کارروائیوں کے ذریعے 2 ارب ڈالر کے قریب رقم مختلف مقدمات جعل سازوں سے جیتے ہیں جو ایسے کاروبار چلاتے تھے۔بہت سارے کاروبار جعلی لائکس کے لیے پیسے دیتے ہیں تاکہ اْن کا کاروبار زیادہ مقبول نظر آئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…