اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

اسلام آباد: عمران خان کی عدالت آمد، کارکنان نے باہر ہی روک لیا

datetime 1  ستمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد(آن لائن)خاتون مجسٹریٹ اور اعلیٰ پولیس افسران کو دھمکیاں دینے سے متعلق کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12ستمبر تک توسیع کی درخواست منظور کر لی۔خاتون جج اور پولیس افسران کو دھمکی دینے پر دہشت گردی کے مقدمے میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی تو پاکستان تحریک انصاف

کے چیئرمین عمران خان اپنے وکیل بابر اعوان کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، بابر اعوان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے حکم پر عمران خان کمرہ عدالت پہنچ گئے ہیں۔ سماعت کے دوران جج نے پولیس سے استفسار کیا کہ عمران خان کا تعلق کس دہشتگرد تنظیم سے ہے یا ان سے کون سی کلاشنکوف برآمد ہوئی ہے اس موقع پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جج صاحب ان سے پوچھ لیں ہر روز نئی دفعہ لگاتے ہیں تاکہ ہم ایک بار کیس کو دیکھ لیں جس پر جج نے کہا یہ ہر دس دن کے اندر کوئی دفعہ لگاتے رہیں گیاگر کوئی سیکشن لگانے ہیں تو ابھی سے کرلیں۔ اس موقع پر بابر اعوان نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کیا کہ کوئی دفعہ رہ تو نہیں گیا؟ اس موقع پر عدالت نے کہا کہ دہشت گردی کے علاوہ سارے سیکشن قابل ضمانت ہیں ،کیس کی سماعت نو بجے ہوئی تو عمران خان کمرہ عدالت میں موجود نہیں جس پر جج نے کہا کہ عمران خان کا کمرہ عدالت میں موجود ہونا ضروری ہے جس پر بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان کی زندگی کو شدید خطرہ ہے۔

اسلام آباد پولیس روزانہ لکھتی ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت نہیں آئے اس موقع پر عدالت نے عمران خان کو دن 12 بجے طلب کیا دلائل سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ عمران خان کے درج مقدمہ میں جو دفعات لگی ہین ان میں ضمانت منظور کر لیتے ہیں جج نے پولیس سے استفسار کیا کہ کیا عمران خان نے کسی کو جلانے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے؟

جس پر بابر اعوان نے کہا کہ ہمارے ساتھی شہید ہوئے ہم نے عدالت نہیں چھوڑی ہمارے ساتھیوں کی شہادت پر آج تک کچھ نہیں ہوا، مگر سابق وزیر اعظم پر مقدمہ بنایا۔ عدالت نے عمران خان کی ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع کردی اور ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض نئی دفعات میں بھی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا کہ 12 ستمبر کو حتمی دلائل دیں، اْسی روز آرڈر کریں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…