منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

بینک لین دین ٹیکس درست، طریقہ کارغلط تھا،اقتصادی ماہر

datetime 25  اگست‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) اوپن مارکیٹ آپریشن کے ذریعے بینکوں کو حکومتی تمسکات میں سرمایہ کاری کے لیے سرمایہ فراہم کیا جارہا ہے۔ معاشی ماہر مزمل اسلام کا کہنا ہے کہ بینکوں کی جانب سے اسٹیٹ بینک کی اوپن مارکیٹ آپریشن کی سہولت سرمائے کی قلت دور کرنے کے ساتھ حکومتی تمسکات میں سرمایہ کاری کے لیے بھی استعمال کی جارہی ہے۔کمرشل بینک 6.5فیصد شرح سود پر سرمایہ حاصل کرکے اسے حکومتی تمسکات میں انویسٹ کررہے ہیں جہاں منافع کی شرح اسے سے زیادہ ہے۔ اس طرح بینکوں کو حکومت کی فسکل فنانسنگ کے لیے ایک ذریعہ مہیا کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف بینکنگ ٹرانزیکشنز پر ودہولڈنگ ٹیکس اوپن مارکیٹ آپریشنز کے حجم میں غیرمعمولی اضافے کی وجہ نہیں ہے کیونکہ اس اقدام سے دستاویزی معیشت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، صرف وہ سرمایہ دار اپنا سرمایہ بینکوں سے نکالیں گے جنہیں ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے کی صورت میں ایف بی آر کی پکڑ کا خدشہ ہے۔مزمل اسلام نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بینکنگ ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس ایک درست قدم ہے تاہم اس کے نفاذ کے لیے حکومت نے درست طریقہ اختیار نہیں کیا جس کی وجہ سے کھاتے داروں اور تاجروں میں بے چینی پھیل گئی۔ حکومت کی جانب عجلت میں اس ٹیکس کے نفاذ کی وجہ سے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنے کا ایک بہترین موقع ضائع ہوگیا اور ریٹرن فائل نہ کرنے والے سرمایہ داروں اور کھاتے داروں نے بینکنگ چینل کے ذریعے لین دین بند کردیا۔ودہولڈنگ ٹیکس کی وجہ سے ہول سیل بزنس میں سے سرمایہ نکل رہا ہے جس کا نتیجہ سپلائی چین کے بگاڑ اور اشیا صرف کی قلت کی شکل میں ظاہر ہوسکتا ہے۔انہوں نے ایف بی آر اور وزارت خزانہ پر زور دیا کہ بینکنگ ٹرانزیکشنز پر ٹیکس وصولی کے لیے نان فائلرز کھاتے داروں کے لیے ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی جائے جس کے تحت ٹیکس گوشوارے جمع کرائے جانے کی صورت میں سابقہ ٹرانزیکشنز کی چھان بین نہ کرنے کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ کھاتے داروں میں پایا جانے والا خوف ختم ہوسکے ساتھ ہی ٹیکس حکام کی جانب سے کسی کھاتے دار یا نئے فائلر کو ہراساں کیے جانے کے امکانات کے خاتمے کے لیے ایف بی آر میں خصوصی ہیلپ لائن قائم کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…