بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

قومی امور میں نرم یا سخت مداخلت ہرگز قبول نہیں کریں گے، مولانا فضل الرحمان

datetime 24  جولائی  2022 |

ڈیرہ اسماعیل خان ( آن لائن )جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قومی امور میں نرم یا سخت مداخلت ہرگز قبول نہیں کریں گے،وہ ڈیرہ اسماعیل خان میں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے

،ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی سے بلیک میل ہوں گے، نہ دباؤ میں آئیں گے اور آئین کے مطابق تمام فیصلے پارلیمنٹ میں طے کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت آئی پارلیمانی اور انتظامی امور میں مداخلت شروع ہو گئی۔ یہ تماشہ بند ہونا چاہیے کیونکہ اسی تجاوز سے بحران پیدا ہوتے ہیں اور پھر جب ایسی صورت حال ہو تو بحران پیدا کرنے والے ادارے خود ہی علاج کے لیے آجاتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ادارے اپنے دائرہ اختیار کی حدود سے تجاوز نہ کریں اور اگر ملک کی سلامتی عزیز ہے تو ادارے اپنی حدود میں رہیں۔ قومی امور میں نرم یا سخت مداخلت کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جس وقت عمران خان کی حکومت تھی تو عدالتیں اور مقتدرہ حلقوں نے اْس کو مکمل اور غیر مشروط حمایت دی۔ عمران خان کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے اور حکومت آئین و قانون کے مطابق پی ٹی آئی کے دور حکومت کی کرپشن کی تحقیقات کرے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…