بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کو دنیا کا مثالی ملک کیسے بنایاجاسکتاہے؟،ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے آسان حل بتادیا

datetime 24  اگست‬‮  2015 |

ڈی آئی خان (نیوزڈیسک)معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ فروغ علم سے ہی ہم پاکستان کو دنیا کا مثالی ملک بنا سکتے ہیں ، اس سرزمین کے نوجوانوں کی مثبت سمت میں راہنمائی اور انہیں ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضروت ہے، ان خیالات کااظہار انہوں نے گومل یو نیو رسٹی سنڈیکیٹ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا، اجلاس کی صدارت وائس چانسلر گومل یو نیو رسٹی میجر جنرل (ر) پروفیسر ڈاکٹر حامد شفیق نے کی، اجلاس میں خیبر پختونخواہ کے محکمہ ہائیر ایجوکیشن، محکمہ خزانہ، محکمہ انتظامی امور، ہائیر ایجوکیشن کمشن اسلام آباد کے نمائندوں اور سنڈیکیٹ ممبران نے شرکت کی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ گومل یو نیو رسٹی سے میرا دلی لگاﺅ ہے میں نے تقریبا اٹھارہ سال قبل گومل یو نیو رسٹی کے کاونوکیشن میں شرکت کی تھی، جہاں مجھے احساس پیدا ہوا کہ ایک دور دراز علاقہ میں قائم درسگاہ کس احسن طریقے سے فروغ علم کے لیئے کوشاں ہے، انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوںکو چاہیئے کہ گومل یو نیو رسٹی پر خصوصی توجہ دیں اور اس مادر علمی کی بہتری کے لیئے یو نیو رسٹی انتظامیہ سے تعاون کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی گومل یونیورسٹی کے ساتھ میرا تعاون جاری رہے گا، یہ مادر علمی ترقی کرے گی، موجودہ وائس چانسلر کا اصلاحاتی ایجنڈہ قابل ستائش ہے، انہوں نے کہا کہ اداروں کی ترقی کے لیئے زات کی نفی کا جذبہ ہو اور خلوص نیت اور یکسوئی سے کام کریں مثالی نتائج قدرت کی جانب سے ملنا یقینی امر ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرت کا انعام ہے فروغ علم سے ہی ہم اس مادر وطن کو امن کا گہوارہ اور دنیا کا مثالی ملک بنا سکتے ہیں، قبل ازیں گومل یو نیو رسٹی کے وائس چانسلر میجر جنرل (ر) پروفیسر ڈاکٹر حامد شفیق نے اجلاس کے شرکاءکو یونیورسٹی میں جاری اصلاحاتی ایجنڈہ سے متعلق آگاہ کیا، انہوں نے یو نیو رسٹی سنڈیکیٹ میں شرکت پر مایہ ناز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا بھی شکریہ ادا کیا، انہوں نے کہاکہ گومل یو نیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سنڈیکیٹ کا انعقاد اسلام آباد میں کیا گیا جس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسی عالمی شہرت کی حامل شخصیت نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…