جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

برطانیہ میں ملالہ یوسف زئی کے ساتھ بھی وہ ہوگیا جس کی کسی کو امید نہ تھی

datetime 24  اگست‬‮  2015 |
BIRMINGHAM, ENGLAND - OCTOBER 10: Malala Yousafzai acknowledges the crowd at a press conference at the Library of Birmingham after being announced as a recipient of the Nobel Peace Prize, on October 10, 2014 in Birmingham, England. The 17-year-old Pakistani campaigner, who lives in Britain where she received medical treatment following an assassination attempt by the Taliban in 2012, was jointly awarded the Nobel peace prize with Kailash Satyarthi from India. Chair of the Nobel Committee Thorbjorn Jagland made the announcement in Oslo, commending Malala for her ‘heroic struggle’ as a spokesperson for girls' rights to education. (Photo by Christopher Furlong/Getty Images)

لندن(نیوزڈیسک)برطانیہ میں ملالہ یوسف زئی کے ساتھ بھی وہ ہوگیا ،برطانوی انٹیلی جنس حکام نے ملالہ پر حملے کی پیشگی اطلاع دیدی،جس کی کسی کو امید نہ تھی،برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کی جان کو خطرے کے باعث خصوصی سیکیورٹی فراہم کر دی گئی۔برطانوی اخبار دی سن کے مطابق ملالہ یوسف زئی کو 2 پولیس گارڈز فراہم کیے گئے ہیں۔اخبار کے مطابق شدت پسند گروپ کی جانب سے ایک بار پھر ملالہ یوسف زئی کو ہدف بنائے جانے کا خدشہ ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ نے ملالہ کی 24 گھنٹے سیکیورٹی کےلئے مسلح اہلکار تعینات کیے ہیں برطانوی اخبار ڈیلی میل نے رپورٹ کیا کہ برطانوی انٹیلی جنس حکام نے ملالہ پر حملے کی پیشگی اطلاع دی تھی۔سیکیورٹی حکام نے ان کی سیکیورٹی یقینی بنانے کےلئے اسپیشل سیل بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ملالہ یوسف زئی کو فراہم کی گئی سیکیورٹی عمومی طور برطانوی وزراءیا پھر دوروں پر آئے سیاسی رہنماو¿ں کو دی جاتی ہے۔اسکاٹ لینڈ یارڈ نے ملالہ کو فراہم کی گئی سیکیورٹی پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا یاد رہے کہ ملالہ یوسف زئی 9 اکتوبر 2012 کو سوات کے شہر مینگورہ میں طالبان کے قاتلانہ حملے میں زخمی وہ گئی تھیں بعد ازاں 15 اکتوبر 2012 کو ہی ان کو علاج کےلئے برطانیہ منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ گزشتہ 3 سال سے مقیم ہیں اور اپنی تعلیم مکمل کر رہی ہیںملالہ یوسف زئی نے طالبان کے سوات پر قبضے کے دور میں ایک نشریاتی ادارے کےلئے ڈائری کی صورت میں بلاگ تحریر کیے تھے، جس میں طالبان کی جانب سے تعلیم پر پابندی کے خلاف آواز اٹھائی تھی جس پر شدت پسندوں نے ملالہ پر حملہ کیا۔ملالہ یوسف زئی کو بچوں کے حقوق اور تعلیم کی جدوجہد پر 10 دسمبر 2014 کو امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا، اس وقت ان کی عمر صرف 17 سال تھی، یوں وہ نوبل انعام حاصل کرنے والی کم عمر ترین شخصیت ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…