ہفتہ‬‮ ، 16 مئی‬‮‬‮ 2026 

سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق میں لاپتہ افراد سے متعلق بل ’لاپتہ‘ ہو گیا

datetime 29  جون‬‮  2022 |

اسلام آ باد ( آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں لاپتا افراد سے متعلق بل غائب ہو گیا۔لاپتہ افراد بارے بل، فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2021، 8 نومبر 2021 کو قومی اسمبلی نے منظور کیا تھا جس کا مقصد پاکستان پینل کوڈ اور ضابطہ فوجداری میں ترامیم کرنا ہے۔جنوری میں انسانی حقوق کی سابق وزیر شیریں مزاری نے انکشاف کیا تھا کہ

یہ بل متعلقہ قائمہ کمیٹی اور قومی اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد سینیٹ میں بھیجے جانے کے بعد غائب ہو گیا ہے۔گزشتہ ماہ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بل کے حوالے سے انہیں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ہیڈ کوارٹرز میں حاضر ہونے کو کہا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں بل پیش ہونے کے بعد اسے داخلہ کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا جہاں بل کی شقوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ یہ بل سینیٹ تک آتے آتے ہی غائب ہوگیا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر ولید اقبال کی صدارت میں ہوا جس کے ایجنڈے میں سیاستدانوں اور سیاسی کارکنان کی گرفتاریوں، اغوا اور ہراساں کرنے کا معاملہ شامل تھا۔اجلاس میں پنجاب پولیس کے افسران اور آئی جی اسلام آباد سمیت انسانی حقوق کے عہدیداروں نے شرکت کی۔دوران اجلاس جب لاپتا افراد سے متعلق بل کا ذکر ہوا تو چیئرمین انسانی حقوق کمیٹی نے انکشاف کیا کہ لاپتا افراد سے متعلق بل کا تاحال سراغ نہیں مل سکا۔اجلاس میں شریک پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے لاپتا افراد سے متعلق معاملہ اٹھایا اور کمیٹی سے پوچھا کہ لاپتا افراد سے متعلق بل گم تھا، اس کا کیا ہوا؟ جس پر کمیٹی کے چیئرمین نے انکشاف کیا کہ لاپتا افراد سے متعلق بل تاحال لاپتا ہے۔دوسری جانب وزارت انسانی حقوق کے عہدیدار بھی بل سے متعلق لاعلم تھے اور انہوں نے اجلاس میں کہا کہ لاپتا افراد سے متعلق بل کا معلوم نہیں کہ کہاں ہے۔

دوران اجلاس سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے لاپتا افراد سے متعلق بل کے لاپتا ہونے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ لاپتا افراد پر بنے بل کو آسمان نگل گیا یا زمین کھا گئی؟سینیٹر مشاہد حسین سید نے سوال اٹھایا کہ لاپتا افراد کا بل کہاں غائب ہوگیا ہے اور بتایا جائے کہ لاپتا افراد سے متعلق بل کس نے غائب کیا ہے؟چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بل قومی اسمبلی سے منظور ہوگیا تھا

اور متعلقہ کمیٹی کے بعد سینیٹ سیکریٹریٹ پہنچا تھا مگر بل سینیٹ سیکریٹریٹ سے غائب ہوگیا ہے، جس پر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ مطلب گمشدہ لوگوں کا بل گم ہوگیا ہے۔تاہم سیکریٹری قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق رابعہ انور نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لاپتا افراد سے

متعلق بل قومی اسمبلی سے منظور ہوا ہے اور وزارت داخلہ اور پارلیمانی امور کو کہا ہے کہ سینیٹ سیکریٹریٹ کے ساتھ معاملہ اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ دونوں وزارتوں کو کہا ہے کہ لاپتا افراد سے متعلق بل تلاش کریں۔دوران اجلاس ایڈیشنل آئی جی پنجاب نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ لانگ مارچ کے

دوران ہمارے 41 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے اور ہر لانگ مارچ میں ہمارے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے تو کیا ہمارے انسانی حقوق نہیں ہیں۔سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ 2014 کا دھرنا دہشت کے لیے تھا، اس میں بھی پولیس پر تشدد ہوا تھا۔ سینیٹر عینی مری نے کہا کہ عمران خان کے اس دھرنے میں جو لوگ آئے تھے

ان کے پاس اسلحہ تھا اور عمران خان نے خود اعتراف کیا کہ لوگ مسلح تھے۔ سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ 2014 کا دھرنا اسپانسرڈ تھا، پوری پارلیمنٹ کو یرغمال بنا دیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…