بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا

datetime 29  جون‬‮  2022 |

نئی دہلی(این این آئی)تیل کی زیادہ قیمتوں سے افراطِ زر کے خدشات کے سبب بھارت کی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی کم ترین سطح پر آگئی ہے حالانکہ مرکزی بینک نے وقفے وقفے سے ڈالر کو فروخت کرکے نقصانات کو محدود کرنے میں مدد کی۔غیر ملکی میڈیا

کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں بھارتی روپے کی قدر 0.6 فیصد گر کر 78 روپے 77 پیسے ہو گئی ہے جو تمام تر سابقہ ریکارڈ کو توڑ کر گزشتہ ہفتے 78 روپے 39 پیسے ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ اہم ایکوٹی انڈیکس ‘نفٹی 50’ میں بھی 0.4 فیصد کی کمی ہوئی۔بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا دو تہائی سے زیادہ درآمد کرتا ہے، خام تیل کی بْلند قیمتیں ملکی تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے ( سی اے ڈی) میں اضافے اور درآمدی مہنگائی روپے پر دباؤ کا باعث بن رہے ہیں۔نجی بینک کے سینئر ٹریڈر نے بتایا کہ خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہیں، روپیہ 79 سے 79.50 تک جاسکتا ہے تاہم اس کا انحصار مرکزی بینک کے اس حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر ہوگا۔تیل کی قیمتوں میں تیسرے روز بھی اضافہ ہوا، تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پیداوار میں اضافے کا امکان نہیں ہے جبکہ لیبیا اور ایکواڈور میں سیاسی بدامنی کے سبب سپلائی میں اضافے سے متعلق خدشات ہیں۔ڈیلرز نے بتایا کہ بھارت کا مرکزی بینک حکومتی بینکوں کے ذریعے وقفے وقفے سے ڈالر فروخت کررہا ہے تاکہ روپے کو ہونے والے نقصانات کو کم کیا جاسکے لیکن ڈالر کی طلب بہت زیادہ ہے۔تجزیہ کار نے بتایا کہ عالمی سطح پر ڈالر فنڈنگ میں دباؤ لندن انٹر بینک آفر ریٹ۔ اوورنائٹ انڈیکس سویپ (لائبور-او آئی ایس) میں بڑھتے ہوئے فرق سے صاف ظاہر ہے،

بھارتی بینک کے فاروڈ مارکیٹ میں مداخلت نے نقد ڈالر کی قلت کے مسئلے میں اضافہ کر دیا ہے۔بھارتی مرکزی بینک سسٹم میں روپے کی لیکویڈیٹی کو متاثر کرنے سے بچنے کے لیے فارورڈ ڈالرز فروخت کر رہا ہے، اس کی وجہ سے ایک سال کے فارورڈ ڈالر کا نفع 3فیصد سے نیچے چلا گیا ہے۔ایم کے گلوبل کے معیشت دان مادھوی اڑوڑا نے بتایا کہ کرنسی مارکیٹ کے کور میں کمی، اشیائے ضروریہ کی مستقل بْلند قیمتیں، محدود زرمبادلہ کے

سبب بڑھتی مہنگائی اور بھارتی کرنسی کی قدر کے سبب مرکزی بینک کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کی حکمت عملی میں تبدیلی کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی کرنسی کو وقت کے ساتھ ساتھ کمزور کرنا درست حکمت عملی ہے جس کے سبب کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوگا۔آنند راٹھی شیئرز اینڈ اسٹاک بروکرز کے محقق جیگار ترویدی نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ بڑھتے ہوئے شرح سود اور تجارتی و کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے سبب روپے کی قدر کم ہو کر سال کے ا?خر تک 80 سے 81 روپے ہو جائے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…