جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں نصف شب آنے والے زلرلے نے تباہی مچادی ‘250سے زائد شہری جاں بحق

datetime 22  جون‬‮  2022 |

کابل(این این آئی) افغانستان میں نصف شب آنے والے زلرلے نے تباہی مچادی جہاں پاک افغان سرحد پر واقع افغان صوبوںپکتیکا اور خوست کے تین اضلاع میں زلزلے کے شدید جھٹکوں کے باعث شدید جانی و مالی نقصان ہوا اوردرجنوں مکانات زمین بوس ہوگئے

جن کے ملبہ تلے آکر 250سے زائد افغان شہری جاں بحق اور زخمی ہونے کی ابتدائی اطلاعات ملی ہیں۔جاں بحق و زخمیوں میں بچے اور خواتین بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ میں امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی سی) کے حوالے سے بتایا گیا کہ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی اورزلزلے کا مرکز جنوب مشرقی افغانستان میں خوست شہر سے 44 کلومیٹر دور تھا جبکہ اس کی گہرائی 51 کلومیٹر تھی۔ جہاں نصف شب آنے والے زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل‘ ننگرہار‘ خوست ‘ پکتیا‘ پکتیکا ‘ غزنی ‘ میدان وردک اور کئی دیگر صوبوں میں انتہائی شدت کے ساتھ محسوس کئے گئے جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کے لوگوں میںشدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق صوبہ پکتیکا کے گیان اور ارگون اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاںکئی گاؤں مکمل طورپر تباہ ہوگئے ہیں اور مکانات کے ملبے تلے دب کر سینکڑوں افغان شہری جاں بحق اور زخمی ہوگئے ہیں۔جاں بحق اور زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ صوبہ خوست کے ضلع سپیرا میں ڈنڈاکی نامی گاؤں میں بھی زلزلے نے شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے جہاں متعدد گھروں کی چھتیں گرگئی ہیں تاہم ابھی امدادی کام جاری ہیں اور ملبہ تلے دبے لوگوں کو نکالاجارہاہے جس کے نتیجے میں ہلاک و زخمی افراد کی تعدادمیں اضافہ کا خدشہ ظاہرکیا جارہا ہے۔

مقامی سرکاری ذرائع کے حوالے سے موصولہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ضلع گیان میں 100 سے زائد جاں بحق وزخمی افراد جبکہ ضلع ارگون سے اب تک 35لاشیں اور 60 زخمی منتقل کئے جاچکے ہیں۔ادھر مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق متاثرہ آبادی کی امداد کے لئے دیگر علاقوں سے

بڑی تعدامیں لوگ پہنچنا شروع ہوگئے ہیں اور امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔مقامی افراد کے مطابق اْنہوں نے ایسی شدت کا زلزلہ پہلے نہیں محسوس کیا تھا۔زلزلے کے جھٹکے محسوس کرتے ہوئے مقامی افراد استغفار کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے ۔

مقامی ذرائع کے مطابق جہاں زیادہ نقصان ہواہے وہاں کئی منزلہ اْونچی مٹی سے بنی ہوئی کچی عمارتیں واقع ہیں۔ زلزلہ سے ہونے والے شدید جانی و مالی نقصان کے بارے سرکاری طورپر معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…