اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

مغرب میں مسلما ن نوجوانوں میں انٹرنیٹ شادیوں کا رحجان بڑھ گیا

datetime 11  دسمبر‬‮  2014 |

لندن۔۔۔۔والدین اور خاندان کی پسند پر شادی کرنا بہت سے معاشروں میں عام ہے لیکن لڑکی اور لڑکے کو پرکھنے کا یہ عمل نوجوانوں کے لیے پیچیدہ اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق مغرب میں رہنے والے کچھ مسلمانوں کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے رشتے استوار کرنے سے اس پورے عمل میں شرمندگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔آپ کو وہ کیوں نہیں پسند؟ وہ ہاتھوں پیروں سے سلامت تو ہے، اچھی بھلی نوکری بھی کر رہی ہے، تو پھر کیسے تمہیں ناپسند ہو سکتی ہے؟ ادیم یونس اپنے خاندان کا قصہ سنا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’شام کے کھانے پر لڑکی، لڑکے کو ملوایا جاتا ہے، سموسے، چکن اور چپاتیاں میز پر آ جاتی ہیں، اس سارے ماحول میں بڑا دباؤ محسوس ہوتا ہے کیونکہ یہ انتہائی مشکل کام ہے۔‘ادیم یونس نے سنہ دو ہزار میں سنگل مسلم ڈاٹ کام شروع کی تھی جو آج کافی مقبول ہو چکی ہییورپ اور امریکہ میں بسنے والے دیگر نوجوان مسلمانوں کی طرح یونس رشتوں کو استوار کرنے کے روایتی طریقے کے متبادل کی تلاش میں تھا اور اسی طرح سے انٹرنیٹ کے ذریعے جوڑیاں بننے کا آغاز ہو گیا۔گذشتہ ایک دہائی میں آن لائن ڈیٹنگ کافی مقبول ہوئی ہے بالخصوص یورپ اور شمالی امریکہ میں۔یہ حیرانگی کی بات نہیں کہ مغرب میں بسنے والے مسلمان نے اپنی ضرورت کے مطابق آن لائن ڈیٹنگ کو اپنا لیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ آن لائن ڈیٹنگ نے جیون ساتھی تلاش کرنے کے ذہنی دباؤ کو کافی کم کر دیا ہے کیونکہ اس عمل میں آپ ایسے ممالک میں اپنے لیے ہم وطن، ہم مذہب اور ایک ہی طرح کے شوق رکھنے والے جیون ساتھی کو چن سکتے ہیں جہاں آپ اقلیت میں ہیں۔یونس کی اپنی ویب سائٹ ’سنگل مسلم ڈاٹ کام‘کے اس وقت دس لاکھ سے زیادہ ممبران ہیں۔ لیکن یونس اسے مسلم آن لائن ڈیٹنگ کہنے سے اتفاق نہیں رکھتے۔ان کا خیال ہے کہ ڈیٹنگ کی عام ویب سائٹس کے برعکس سنگل مسلم ڈاٹ کام جیسی ویب سائٹس پر ساری عمر کے لیے جیون ساتھی چننے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور یہ ذمہ داری یہ لوگ انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔سنگل مسلم ڈاٹ کام کا دعویٰ ہے کہ ان کی ویب سائٹ پر وہ روزانہ اوسطاً چار جوڑے بنتے ہیں۔ یہ ویب سائٹ مسلمانوں میں آن لائن ڈیٹنگ کے رجحان میں اضافے اور ہر عمر اور فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو سروس مہیا کرنے کی واحد مثال ہے۔محمد چار برس قبل اپنی بیوی کیتھرین سے آن ڈیٹنگ کے ذریعے ہی ملے تھے۔ آج وہ دو بچوں کے باپ ہیں۔مثال کے طور پر مسلم میٹریمنی ڈاٹ کام بھی اسی طرح کی ویب سائٹ ہے لیکن یہاں تو آپ اسلام کے ایک ہی فرقے اور ایک ہی زبان بولنے والے جیوں ساتھی کو ڈھونڈ سکتے ہیں۔محمد چار برس قبل اپنی بیوی کیتھرین سے آن ڈیٹنگ کے ذریعے ہی ملے تھے۔ آج وہ دو بچوں کے باپ ہیں اور خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن اپنے لیے دلہن تلاش کرنا محمد کے لیے ایک مشکل کام تھا۔محمد کہتے ہیں کہ راسخ العقیدہ مسلمان پبوں اور کلبوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں، تو ان کے لیے جیون ساتھی تلاش کرنے کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں۔محمد مسلمانوں کے لیے بنائی گئیں ویب سائٹس سے پہلے کئی آزاد خیال ویب سائٹس پر جا چکے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایسٹر 2010 کا وقت تھا جب میں نے پہلی بار کیتھرین کو ای میل کی، اور چیزیں اتنی تیزی سے آگے بڑھیں کہ ہم نے تین چار ماہ بعد شادی کر لی۔‘بنگلہ دیشی نڑاد محمد اور برطانوی نڑاد کیتھرین کے مذاہب، رنگ، نسل سب کچھ باکل مختلف لیکن یہ ویب سائٹس اسی طرح جوڑے بنانے کے لیے جانی جاتی ہیں۔ڈیوک یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر اور مسلمانوں کی آن لائن شادیوں پر تحقیقی پیپر کے مصنف پروفیسر ایم بایے لو کا کہنا ہے کہ اسلام کا دائر کار نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے نہ علاقائی بنیادوں پر اور یہ کہ اسلام ایک عالمی حلقہ ہے۔رید کا تعلق تیونس سے ہے اور وہ اپنی بیوی سہ پہلی بار آن لائن ہی ملا تھا۔ وہ خوش تو ہے لیکن بہت سے لوگوں کی طرح اس کے خیال میں آن لائن ڈیٹنگ میں بہت زیادہ مبالغے سے کام لیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’یہی وجہ ہے ایسی ویب سائٹس کے فرنٹ صفحے پر آپ افریقی نڑاد مسلمان کے ساتھ پاکستانی یا بھارتی مسلمان خاتون کو دیکھیں گے۔‘رید کا تعلق تیونس سے ہے اور وہ اپنی بیوی سہ پہلی بار آن لائن ہی ملا تھا۔ وہ خوش تو ہے لیکن بہت سے لوگوں کی طرح اس کے خیال میں آن لائن ڈیٹنگ میں بہت زیادہ مبالغے سے کام لیا جاتا ہے۔انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ آپ کس سے بات کر رہے ہیں۔بہرحال مغرب میں آن لائن شادیوں کی انڈسٹری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یونس نے سال 2000 میں سنگل مسلم ڈاٹ کام شروع کی تھی جو آج کافی مقبول ہو چکی ہے۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ویب سائٹ سے نہ صرف اسے کاروباری فائدہ ہو رہا ہے بلکہ اس کی اپنی بیوی سے پہلی ملاقات بھی اسی ڈیٹنگ ویب سائٹ کے ذریعے ہوئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…