پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

گلوکارسدھو کی موت اور ان کے گانوں میں حیرت انگیز مماثلت کے سوشل میڈیا پر تبصرے

datetime 30  مئی‬‮  2022 |

ممبئی(این این آئی) مشہور بھارتی گلوکارسدھو موسے والاکی موت اور ان کے گانوں میں حیرت انگیز مماثلت کو لے کر سوشل میڈیا پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔اتوار کے روز بھارتی پنجاب کے معروف ریپ سنگر سدھو موسے والا کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا تاہم ان کی موت کے بعد

گلوکار کے گانوں اور ان کی ہلاکت میں دکھائی دینے والی مماثلت کے بارے میں سوشل میڈیا پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔سدھو موسے والا کے مداحوں کا ایک طبقہ آنجہانی گلوکار کے گانوں کے ناموں اور اس کی موت کے درمیان گہرے تعلق کو دیکھ رہا ہے۔سوشل میڈیا میں جاری تبصروں کے مطابق چند ہفتوں قبل سدھو موسے والا کا ایک گانا ’’دا لاسٹ رائیڈ‘‘(آخری سفر) کے نام سے 15 مئی کو یوٹیوب پر ریلیز ہوا تھا، اسی طرح کچھ عرصہ قبل ان کا ایک گانا 295 کے نام سے بھی ریلیز کیا گیا تھا اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ ان کی موت 29 مئی (295) کو ہی ہوئی ہے۔یہاں حیران کن بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنا آخری گانا ’دی لاسٹ رائیڈ‘ امریکی ریپر’’ توپاک شکور‘‘ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے گایا تھا، اور توپاک کوبھی 1996 میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔سدھو نے یوٹیوب پر گانا اپ لوڈ کیا تو اْس گاڑی کی تصویر بھی پوسٹ کی جو توپاک اپنی زندگی کے آخری دن چلا رہے تھے۔ سوشل میڈیا پرکئی مداحوں نے گلوکار کے آخری گانے اور ان کی وفات میں حیران کن مماثلت کی نشاندہی کی ہے۔فیضی نامی ٹوئٹر صارف نے کہا کہ ’آخری سفر‘ نامی گانا ریلیز کرنے کے صرف دو ہفتے بعد سدھو کو ان کی گاڑی میں قتل کر دیا گیا۔ایک مداح نے نشاندہی کی کہ’’ آخری گانے کی شاعری میں کسی ایسے شخص کی طرف اشارہ ہے جو جوانی میں انتقال کر گیا ہے‘‘۔کچھ مداحوں نے یہ بھی بتایا کہ پچھلے سال پنجابی گلوکار نے ٹریک 295 نامی گانا ریلیز کیا تھا،

آج ان کی وفات کے دن بھی تاریخ کے ہندسے وہی ہیں، 29 واں دن اور پانچواں مہینہ یعنی 29 مئی۔یاد رہے کہ سدھو موسے والا کو اتوار کے روز

نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا کہا جارہا ہے کہ سدھو کی گاڑی پر 30 کے قریب گولیاں داغی گئیں لیکن ان کے ساتھ موجود 2 ساتھی صرف زخمی ہی ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…