ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کو سمجھ ہی نہیں آرہی معیشت کیسے چلائیں‘ شوکت ترین

datetime 23  مئی‬‮  2022 |

لاہور( این این آئی)سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکومت حواس باختہ ہوگئی ہے، ان کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ معیشت کیسے چلائیں۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی گفتگو پر ردعمل میں شوکت ترین نے کہا کہ قرضے اگر بڑھے تو جی ڈی پی بھی بڑھی ہے،

ہم پیسے دے کر گئے تھے لیکن یہ قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا ہے کہ سبسڈی کم کردیں گے، عالمی سطح پر پیٹرول بڑھ رہا تھا، پھر بھی ہم نے کم قیمت بڑھائی، جب ہم پیٹرول کی قیمت بڑھاتے تھے تو یہ ہم پر تنقید کرتے تھے، یہ کہتے ہیں کہ ہم معیشت خراب چھوڑ کر گئے، لیکن اعداد و شمار تو کچھ اور بتا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے روز گار کے مواقع پیدا کیے اور زرعی پیداوار بہتر کی، یہ لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش نہ کریں ، پیٹرول دیگر ممالک میں ہمارے یہاں سے زیادہ مہنگا تھا، سبسڈی دینے کیلئے ہم نے فنڈز مختص کیے تھے۔انہوںنے کہا کہ پہلے تو انہیں بارودی سرنگ نظر نہیں آتی تھی اب کیوں آرہی ہے؟ ان کی تو 13پارٹیز کی حکومت ہے اور 2 وزیر خزانہ ہیں۔آبادی بڑھ رہی ہے، انہوں نے 10 سال میں کچھ نہ کیا، یہ تو بیڑا غرق کرکے گئے تھے، ہم ٹھیک کررہے تھے، ان کی فیس سیونگ نہیں ہورہی، اس لیے پریشان ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…