منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

سیاسی رہنماؤں کے خلاف نیب کو استعمال کیا گیا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

datetime 27  اپریل‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ نیب کا احتساب بلا تفریق نہیں ہے بلکہ سیاسی رہنماؤں کے خلاف اس کو استعمال کیا گیا۔ہائی کورٹ نے نارووال اسپورٹس سٹی پراجیکٹ نیب ریفرنس میں وفاقی وزیر احسن اقبال کی بریت کی درخواست پر سماعت کی۔

نیب پراسیکیوٹر نے کیس میں تحریری جواب جمع کراتے ہوئے بریت کی اپیل مسترد کرنے کی استدعا کردی۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ احسن اقبال کیخلاف کرپشن کے ٹھوس شواہد ہیں، تین گواہوں کے بیانات ہو چکے ہیں، احسن اقبال نے 73کروڑ والے منصوبے کا اسکوپ بڑھا کر تین ارب روپے کیا اور اختیارات کا غلط استعمال کر کے خزانے کو نقصان پہنچایا۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے کتنے کیسز ہیں جو ہم نے کالعدم قرار دیے ہیں، اسی وجہ سے کیسز کالعدم قرار دیے کیونکہ ان میں جرم نہیں بنتا، آپ کا احتساب Across the boardبلا تفریق نہیں ہے، بلکہ سیاسی رہنماؤں کے خلاف اس کو استعمال کیا گیا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سیاستدانوں نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا، ملک کے محب وطن لوگوں پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں، آپ کو 1976 کے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتا ہوں، آپ اسے پڑھیں، منتخب نمائندے قابل احترام ہوتے ہیں، عوامی نیشنل پارٹی پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں، خیر بخش مری، عطا اللہ مینگل جیسے لیڈروں کو اس وقت کیا کیا کہا جاتا تھا، جو سب محب وطن تھے ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ پاکستان کے خلاف ہیں۔عدالت نے احسن اقبال کی نیب ریفرنس سے بریت کی درخواست پر سماعت 11 مئی تک ملتوی کردی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…