بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

شجاع خانزادہ پرحملہ کیوں کیاگیا؟ابتدائی رپورٹ میں اہم انکشافات

datetime 17  اگست‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) پنجاب پولیس نے صوبائی وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ پر اٹک کے علاقے میں ہونے والے خود کش حملے میں کالعدم لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا۔انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس مشتاق کی جانب سے واقعے کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ شہباز شریف کو پیش کردی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ کی ہلاکت مظفر گڑھ میں لشکر جھنگوی کے چیف ملک اسحاق اور ان کے دو بیٹوں سمیت 13 افراد کی ہلاکت کی جوابی کارروائی ہے۔آئی جی نے شجاع خانزادہ کی ہلاکت کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کا حوصلہ اور ہمت ایسے حملوں سے پست نہیں ہوسکتے۔آئی جی نے واقعے میں ہلاک ہونے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) حضرو شوکت حسین شاہ، جنھوں نے 1998 میں انسپکٹر کے طور پر پولیس میں شمولیت اختیار کی تھی، کو خراج عقیدت پیش کیا۔ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگوکرتے ہوئے
ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خفیہ اداروں کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ سینیئر سرکاری حکام کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے جس میں پنجاب کے وزیر داخلہ بھی شامل تھے۔ان کا کہنا تھا کہ خفیہ اداروں نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ وزراء اور کابینہ اراکین کی سیکیورٹی میں اضافہ کردیا جائے۔انھوں نے مزید بتایا کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے پنجاب پولیس نے صوبے بھر میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی تھی اور متعدد دہشت گردی کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔اٹک میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے کے بعد آئی جی پنجاب کی ہدایت پر صوبے بھر میں سیکیورٹی کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔پنجاب پولیس کے ترجمان نے آئی جی کے حوالے سے بتایا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں فورسز فرنٹ لائن پر رہیں گی اور دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اٹک واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور اس میں ملوث عناصر بچ نہیں پائیں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…