جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

شجاع خانزادہ پرحملہ کیوں کیاگیا؟ابتدائی رپورٹ میں اہم انکشافات

datetime 17  اگست‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) پنجاب پولیس نے صوبائی وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ پر اٹک کے علاقے میں ہونے والے خود کش حملے میں کالعدم لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا۔انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس مشتاق کی جانب سے واقعے کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ شہباز شریف کو پیش کردی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ کی ہلاکت مظفر گڑھ میں لشکر جھنگوی کے چیف ملک اسحاق اور ان کے دو بیٹوں سمیت 13 افراد کی ہلاکت کی جوابی کارروائی ہے۔آئی جی نے شجاع خانزادہ کی ہلاکت کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کا حوصلہ اور ہمت ایسے حملوں سے پست نہیں ہوسکتے۔آئی جی نے واقعے میں ہلاک ہونے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) حضرو شوکت حسین شاہ، جنھوں نے 1998 میں انسپکٹر کے طور پر پولیس میں شمولیت اختیار کی تھی، کو خراج عقیدت پیش کیا۔ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگوکرتے ہوئے
ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خفیہ اداروں کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ سینیئر سرکاری حکام کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے جس میں پنجاب کے وزیر داخلہ بھی شامل تھے۔ان کا کہنا تھا کہ خفیہ اداروں نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ وزراء اور کابینہ اراکین کی سیکیورٹی میں اضافہ کردیا جائے۔انھوں نے مزید بتایا کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے پنجاب پولیس نے صوبے بھر میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی تھی اور متعدد دہشت گردی کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔اٹک میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے کے بعد آئی جی پنجاب کی ہدایت پر صوبے بھر میں سیکیورٹی کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔پنجاب پولیس کے ترجمان نے آئی جی کے حوالے سے بتایا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں فورسز فرنٹ لائن پر رہیں گی اور دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اٹک واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور اس میں ملوث عناصر بچ نہیں پائیں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…