اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

اداروں کی نیوٹریلٹی مشکوک ،مجبور نہ کیا جائے کہ وہ سازش میں ملوث ہونے والوں کا نام لیں، پھر کہا جائے کہ آپ نے اداروں کا نام کیوں لیا؟مولانا فضل الرحمان کی وارننگ

datetime 6  اپریل‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)حکومت مخالفت اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اداروں کی نیوٹریلٹی مشکوک ہے، اب بھی اداروں کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو موجودہ سازش میں ملوث ہیں۔ ایک انٹرویومیں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجبور نہ کیا جائے کہ وہ سازش میں ملوث ہونے والوں کا نام لیں، پھر کہا جائے کہ آپ نے اداروں کا نام کیوں لیا؟

،سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی اجلاس کا بار بار حوالہ دیا جا رہا ہے، اداروں کو آگے آکر وضاحت کرنی چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کو نکالا جا سکتا ہے تو عمران خان کو کیوں نہیں نکالا جاسکتا۔دوسری جانب نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہاہے کہ وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے دنیا کے سامنے آئین کی خلاف ورزی کی۔ اپنے بیان میں شیری رحمن نے کہاکہ عدم اعتماد سے بچنے کے لئے آئین کو پامال کیا گیا، وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے دنیا کے سامنے آئین کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہاکہ آئین کی پاسداری کا حلف اٹھانے والوں نے ہیں آئین شکنی کی۔ انہوں نے کہاکہ فیصلے میں تاخیر کی وجہ سے غیر یقینی کی صورتحال میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، آئین انصاف کے منتظر ہے۔ شیری رحمن نے کہاکہ عمران خان آئین توڑ کر لوگوں کو احتجاج پر اکسا رہے ہیں، آئین توڑ کر یہ جمہوریت کے محافظ بننے کی کوشش کر رہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیشہ کی طرح جھوٹ پر مبنی بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ”35 پنچر”کی طرح بعد میں کہے گے ان کا سیاسی بیان تھا۔

شیری رحمن نے کہاکہ خط کے معاملے پر بھی عمران خان جلد یو ٹرن لینگے۔ شیری رحمن نے کہاکہ جس خط پر عمران خان ایک خطرناک بیانیہ بنا رہے ہیں اس کی صداقت پر اب کئی سوالات آٹھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان اور اسپیکر کو اب سازش اور غداری کا الزام ثابت کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ آپ 197 ارکان اسمبلی پر خارجہ سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر سیاست تو کر سکتے ہیں لیکن سچ ثابت نہیں کر سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…