جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

اداروں کی نیوٹریلٹی مشکوک ،مجبور نہ کیا جائے کہ وہ سازش میں ملوث ہونے والوں کا نام لیں، پھر کہا جائے کہ آپ نے اداروں کا نام کیوں لیا؟مولانا فضل الرحمان کی وارننگ

datetime 6  اپریل‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)حکومت مخالفت اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اداروں کی نیوٹریلٹی مشکوک ہے، اب بھی اداروں کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو موجودہ سازش میں ملوث ہیں۔ ایک انٹرویومیں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجبور نہ کیا جائے کہ وہ سازش میں ملوث ہونے والوں کا نام لیں، پھر کہا جائے کہ آپ نے اداروں کا نام کیوں لیا؟

،سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی اجلاس کا بار بار حوالہ دیا جا رہا ہے، اداروں کو آگے آکر وضاحت کرنی چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کو نکالا جا سکتا ہے تو عمران خان کو کیوں نہیں نکالا جاسکتا۔دوسری جانب نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہاہے کہ وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے دنیا کے سامنے آئین کی خلاف ورزی کی۔ اپنے بیان میں شیری رحمن نے کہاکہ عدم اعتماد سے بچنے کے لئے آئین کو پامال کیا گیا، وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے دنیا کے سامنے آئین کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہاکہ آئین کی پاسداری کا حلف اٹھانے والوں نے ہیں آئین شکنی کی۔ انہوں نے کہاکہ فیصلے میں تاخیر کی وجہ سے غیر یقینی کی صورتحال میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، آئین انصاف کے منتظر ہے۔ شیری رحمن نے کہاکہ عمران خان آئین توڑ کر لوگوں کو احتجاج پر اکسا رہے ہیں، آئین توڑ کر یہ جمہوریت کے محافظ بننے کی کوشش کر رہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیشہ کی طرح جھوٹ پر مبنی بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ”35 پنچر”کی طرح بعد میں کہے گے ان کا سیاسی بیان تھا۔

شیری رحمن نے کہاکہ خط کے معاملے پر بھی عمران خان جلد یو ٹرن لینگے۔ شیری رحمن نے کہاکہ جس خط پر عمران خان ایک خطرناک بیانیہ بنا رہے ہیں اس کی صداقت پر اب کئی سوالات آٹھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان اور اسپیکر کو اب سازش اور غداری کا الزام ثابت کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ آپ 197 ارکان اسمبلی پر خارجہ سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر سیاست تو کر سکتے ہیں لیکن سچ ثابت نہیں کر سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…