اسلام آباد (آن لائن) نگران وزیراعظم کے تقرر کے معاملہ پر پیپلز پارٹی نے ن لیگ کو مشاورتی عمل کا بائیکاٹ نہ کرنے کی تجویز دیدی ہے تا ہم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی تحلیل کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد اس پر مشاورت کرینگے۔ابھی مشاورتی عمل میں شامل ہونے کا مطلب عمران خان کا اسمبلی تحلیل کرنے کا اقدام
درست ماننا ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی کا موقف ہے کہ اپوزیشن لیڈر کا مشاورتی عمل سے باہر ہونا عمران خان کو اس معاملے پر واک اوور دینا ہوگا۔ اپوزیشن لیڈر تمام رہنماؤں سے مشاورت کرکے نگران وزیراعظم کیلئے دو نام دے دیں۔بائیکاٹ نہ کرنے کی یہ تجویز بلاول بھٹو نے شہباز شریف سے ملاقات میں دی تھی۔جس پر شہباز شریف نے انھیں جواب دیا تھا قومی اسمبلی تحلیل کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد اس پر مشاورت کرینگے۔ابھی مشاورتی عمل میں شامل ہونے کا مطلب عمران خان کا اسمبلی تحلیل کرنے کا اقدام درست ماننا ہوگا،سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی نگران وزیراعظم کے تقرر کے معاملے پر پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی سے مشاورت ہوگی۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے کہ جہاں غیر جمہوری حکومت اقتدار میں نہ آسکے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک پیغام میں عمران خان کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پاکستان کے آئین کو آگ لگائی ہے لیکن ہم ان کی بغاوت کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم عمران خان کی حکومت سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں مضبوط نظام لانے کے لیے ہمیں اصلاحات کی ضرورت ہے اور ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں غیر جمہوری حکومت اقتدار میں نہ آسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر نے کہا اپوزیشن غیر ملکی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور تحریک کو مسترد کر دیا جبکہ عمران خان نے جلد ہی قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز دی۔ انہو ں نے بتایا کہ ڈپٹی اسپیکر اور عمران خان کے دونوں اقدامات آئین کی خلاف ورزی تھے۔



















































