دبئی، اسلام آباد (آئی این پی ) متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی 2 ارب ڈالر قرض واپسی موخر کردی۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کی 2 ارب ڈالر قرض واپسی کو ایک سال کے لیے موخر کیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے قرض 3 سال پہلے پاکستان کو 3 سال کے لیے دیا تھا اور پاکستان کویہ قرض مارچ میں یو اے ای کو واپس کرنا تھا۔
اس سے قبل چین پہلے ہی 4 ارب 38 کروڑ ڈالر قرض کی واپسی مخر کرچکاہے۔دوسری جانب پاکستان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی 32منصوبوں میں 7ارب ڈالر کی سرمایہ کاری،1966سے ابتک پاکستان کو 23ارب ڈالر کی فراہمی،2023تک 6.3ارب ڈالر کا تین سالہ پروگرام ،توانائی،شاہرات،زراعت،پانی،ٹرانسپورٹ،صحت،تعلیم اور شہری سہولیات کے شعبوں میں کام جاری۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایشیائی ترقیاتی بینک 7 ارب ڈالر کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے، اقتصادی امور ڈویژن کے اعداد و شمار کے مطابق 30 ستمبر 2021 تک32 منصوبے زیر عمل ہیںاور ایک پروگرام پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق ہے جس میں 33فیصد بنک شئیرکے ساتھ 2,339 ملین ڈالر کے سات منصوبے جاری ہیں۔ سڑک اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 1,152 ملین ڈالر کے سات منصوبے ہیں جن میں بنک کا حصہ 16 فیصد ہے۔ پانی اور شہری خدمات کے شعبے میں بینک کے پاس 12 فیصد حصہ کے ساتھ 843 ملین ڈالرکے پانچ ترقیاتی منصوبے ،پبلک سیکٹر مینجمنٹ میں 28 فیصد حصہ کے ساتھ 1,941 ملین ڈالر لاگت کے تین منصوبے ،زرعی اور قدرتی وسائل کے شعبے میں بینک کے پاس 9 فیصد حصہ کے ساتھ 653 ملین ڈالرکے سات منصوبے ،تعلیم اور صحت کے شعبوں میں 1 فیصد حصہ کے ساتھ 77 ملین ڈالرکے تین منصوبے ہیں۔
بنک کی جانب سے مالی سال 2020-21 کے دوران پاکستان کے لیے مجموعی طور پر 1,376 ملین ڈالر کی ادائیگی کی گئی تھی جس میں سے 300 ملین ڈالر توانائی کے شعبے کے لیے تقسیم کیے گئے۔ اسی طرح سڑک اور ٹرانسپورٹ کے لیے 139 ملین ڈالر، پانی اور شہری خدمات 58 ملین ڈالر، پبلک سیکٹرمینجمنٹ 236 ملین ڈالر، زرعی اور قدرتی وسائل کے شعبے کے لیے 32 ملین ڈالر، تعلیم اور صحت کے شعبے کے لیے 11 ملین ڈالرجبکہ اصلاحات کے لیے 600 ملین ڈالر کے قرضے فراہم کیے گئے۔
پاکستان کے لیے بینک کی جاری تکنیکی معاونت 71.98 ملین ڈالر ہے اور اس میں 35 منصوبے شامل ہیں جن میں 22 نالج اینڈ سپورٹ ٹیکنیکل اسسٹنس اور 13 ٹرانزیکشن ٹیکنیکل معاونت بارے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بنک پاکستان کے سب سے بڑے شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ پاکستان 2.17 فیصد شیئر ہولڈنگ اور 3.22 ارب ڈالر کی مجموعی سبسکرپشن کے ساتھ اسکا بانی رکن بھی ہے۔
اے ڈی بی نے پاکستان کو جو مالی معاونت فراہم کی مالیاتی خسارہ ختم کرنے اور ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے گرانٹ اور تکنیکی مدد شامل ہے۔ 1966 سے بینک نے اقتصادی اصلاحات، توانائی، سڑکوں کی نقل و حمل، زراعت اور پانی اور سماجی شعبوں سمیت دیگرمنصوبوں کے لیے 23 ارب ڈالر سے زائد رقم تقسیم کی ہے۔ اپنے نئے کنٹری آپریشنز بزنس پلان کے تحت بینک نے 6.3 ارب ڈالر مالی امداد کی فراہمی کا عندیہ دیا ہے جو تین سالوں 2021-23 میں سماجی تحفظ کو بڑھانے، اقتصادی ترقی اور پاکستان میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے استعمال ہوگا۔



















































