اسلام آباد(نیوزڈیسک) افغانستان نے پاکستان سے کہا ہے کہ طالبان کو دوبارہ امن مذاکرات کی میز پر لانے میں اس کی مدد کرے اور ساتھ ہی طالبان پر زور دیا جائے کہ وہ افغانستان میں کئے جانیوالے تازہ حملوں کا سلسلہ بند کرے۔وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز یہاں افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کی قیادت میں آنیوالے ایک اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کی۔ افغان وفد کے دیگر شرکامیں قائم مقام افغان وزیر دفاع معصوم ستانکزئی اور افغان خفیہ ادارے ’’این ڈی ایس‘‘ کے سربراہ رحمت اللہ نبیل کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔ دفترخارجہ کے ایک بیان کے مطابق ملاقات میں پاک افغان تعلقات، افغانستان میں سیاسی اور سلامتی کی صورتحال، دونوں ممالک کے مابین سیکیورٹی معاملات میں تعاون اور افغانستان میں امن اور مفاہمتی عمل جیسے اہم ایشوز پر بات چیت ہوئی۔ سفارتی ذرائع نے بتایا کہ افغان حکام کا دورہ اسلام آباد بہت اہم تھا اور اس میں طالبان اور افغان حکومت کے مابین امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے امکانات پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد آنیوالے افغان حکام نے درخواست کی ہے کہ امن مذاکرات کی بحالی کے سلسلے میں پاکستان اپنی کوششیں تیز کرے۔افغان وزراء نے یہ بھی کہا کہ طالبان پر اس بات کیلیے بھی زور ڈالا جائے کہ وہ حالیہ حملوں کے سلسلے کو روکے اور اس کے بجائے مذاکرات کی میز پر آئے۔ دفترخارجہ کے بیان کے مطابق مشیر برائے قومی سلامتی نے اس موقع پر افغانستان کیساتھ تعمیری اور دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انھوں نے افغانستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی پرزور مذمت بھی کی۔ انھوں نے مفاہمتی عمل کی کامیابی کیلئے پاکستان کا سہولت کار کے طور پر کردار جاری رکھنے کا یقین بھی دلایا۔ افغان وزیر خارجہ نے پاکستان کیساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کے حصول کیلئے ملکر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کیلیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات میں ایک دوسرے کے تحفظات کو دورکرنے اور علاقے میں سلامتی سے متعلقہ چیلنجز کا سامنا کرنے کیلیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔صلاح الدین ربانی کا افغان وزیر خارجہ کے طور پر پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ انھوں نے وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ بی بی سی کے مطابق اس سے قبل کابل میں افغان صدارتی ترجمان سید ظفر ہاشمی نے صحافیوں کو بتایا کہ افغان وفد اپنے دورے میں پاکستان سے مطالبہ کریگا کہ وہ پاکستان کے اندرموجود ایسے گروہوں کیخلاف کارروائی کرے جنھوں نے افغان عوام کیخلاف جنگ کا اعلان کررکھا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ذرائع نے بتایا پاکستانی حکام افغان رہنماؤں کو افغان سرزمین پرچھپے پاکستانی شدت پسندوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے شواہد فراہم کرینگے۔
پاکستان طالبان سے دوبارہ مذاکرات کیلیے مدد کرے، افغانستان
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لاہور: چلڈرن اسپتال کی پارکنگ سے ڈاکٹر کی لاش ملنے کا معمہ حل، ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات
-
ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے حکومت کا بڑا اعلان
-
این ڈی ایم اے کا ممکنہ شدید گرمی کے پیش نظر الرٹ جاری
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لیے بڑی خوشخبری
-
لاہو رکے علاقے ڈیفنس میں 2 سوشل میڈیا سٹارز لڑکیوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ
-
راولپنڈی میں زیادتی کا شکار ہونے والی 15 سالہ طالبہ کے ہاں بیٹی کی پیدائش ، پولیس نے ملزم کو گرفتار...
-
پانچ مرلہ کے گھر پر سنگل فیز میٹر لگانے پر پابندی عائد
-
750روپے کا پرائز بانڈ رکھنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا اعلان
-
وزیراعلی نے موٹر سائیکل مالکان کے لیے پیٹرول سبسڈی کی تفصیلات جاری کر دیں
-
ہر بچے کا ’’ب فارم‘‘ اب ایک بار نہیں 3 بار بنے گا! نیا طریقہ کار متعارف
-
پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں کمی کی کہانی خواجہ سعد رفیق منظرعام پر لے آئے



















































